افغان طالبان حکومت اندرونی اختلافات کے باعث تقسیم کا شکار

افغان طالبان حکومت اندرونی اختلافات کے باعث تقسیم کا شکار

قندھار سخت گیر، کابل عملیت پسند دھڑا، انٹرنیٹ ،خواتین کی تعلیم پر اختلاف جاری 2026 کے آغاز تک صورتحال بظاہر قابو میں ، مگر کشیدگی برقرار :برطانوی میڈیا

کابل(دنیا مانیٹرنگ) افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں شدید اندرونی اختلافات منظر عام پر آئے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ برطانوی میڈیا کے مطابق قندھار میں موجود دھڑا سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کے زیرِ قیادت ہے ، جو سخت گیر اسلامی نظام کا خواہاں ہے ، خواتین کی تعلیم اور ملازمت کی سخت مخالفت کرتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ کو خطرہ سمجھتا ہے ۔دوسری جانب کابل میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر دفاع ملا یعقوب اور نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر کی قیادت میں عملیت پسند گروہ موجود ہے ، جو تجارتی، سفارتی اور ریاستی نظام کے فروغ کے لیے اعتدال پسند پالیسیوں کا حامی ہے۔ یہ گروہ محدود دائرے میں لڑکیوں کی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کی حمایت بھی کرتا ہے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اختلافات ستمبر 2025 میں شدت اختیار کر گئے ، جب قندھار دھڑے نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا، جس کی کابل گروپ نے شدید مخالفت کی۔ تاہم تین دن بعد سروس بحال کر دی گئی، جسے ماہرین طالبان کی تاریخ میں غیر معمولی بغاوت قرار دیتے ہیں۔2026 کے آغاز تک صورتحال بظاہر قابو میں ہے ، مگر کشیدگی برقرار ہے ۔ سرکاری ترجمان اختلافات کو محض رائے کا فرق یا خاندانی نوعیت کے معاملات قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں نظریاتی جنگ بیانات اور فیصلوں کے ذریعے جاری ہے ، جس سے افغان طالبان حکومت کے مستقبل پر سوالات بڑھ گئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں