مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اختلافات تاحال برقرار

مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اختلافات تاحال برقرار

اتحاد تنظیمات مدارس نے محکمہ داخلہ پنجاب کے اتفاق رائے والا بیان ردکردیا تحفظات دورنہیں ہوئے :ترجمان مدارس،اگلے ہفتے پھر ملاقات طے :سلمان رفیق

لاہور(محمد حسن رضا سے )دینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن کے معاملے پر اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان اور محکمہ داخلہ پنجاب کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ اتحاد تنظیمات مدارس نے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے اتفاق رائے اورآئی ٹی ٹیموں کی ٹریننگ کے حوالے سے بیان کی نفی کردی ۔ ترجمان اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان صاحبزادہ محمد عبدالمصطفی ہزاروی نے موقف اپنایا کہ ابھی تک معاملات چل رہے ہیں، رجسٹریشن سے متعلق حتمی میٹنگ ہونا باقی ہے ،ان کا کہناتھاکہ تنظیم کی جانب سے اپنا تیار کردہ رجسٹریشن فارم محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کر دیا گیا ہے ،اس پر تاحال باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ اتحاد کو بعض تحفظات تھے جن پر محکمہ داخلہ کی جانب سے اب تک وضاحت نہیں کی گئی جبکہ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن سمیت متعدد علما کرام نے محکمہ داخلہ پنجاب کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور اپنی تجاویز بھی محکمہ داخلہ کو دیں ۔ ترجمان نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی کمیٹی نے عندیہ دیا ہے کہ ابھی کچھ مزید معاملات ہیں جن پر بات چیت ہونا باقی ہے۔

اتحاد تنظیمات مدارس کو اس بات کا علم نہیں کہ محکمہ داخلہ پنجاب کن افراد یا اداروں کی ٹریننگ کروا رہا ہے ، جس پر وضاحت ضروری ہے ۔ترجمان نے اتحاد تنظیمات مدارس کاموقف دہراتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس اور جامعات کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ 1860 کے سیکشن 21 کے تحت ہی ہونی چاہئے اور ڈیٹا مرتب کرنے کیلئے وہی فارم استعمال کیا جائے جس پر ماضی میں حکومت پاکستان اور دینی مدارس کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہو چکا ہے ،اس فارم میں رد و بدل کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ دینی مدارس کی تنظیمات الگ الگ مذاکرات نہیں کریں گی بلکہ تمام بات چیت مشترکہ طور پر ہونی چاہئے ۔ شیڈولڈ بینکوں میں دینی مدارس و جامعات کے بینک اکاؤنٹس بلا تاخیر کھولے جائیں۔ پنجاب کی سب کیبنٹ کمیٹی برائے امن و امان کے خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ اتحاد تنظیمات مدارس اور دیگر وفاق ہائے دینی مدارس کے جید علماء سے اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات طے پا گئی ہے ،دینی مدارس سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت یا وفاقی حکومت کے ڈی جی آر ای کے ساتھ بھی رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آنے والی ملاقات میں رجسٹریشن کے طریقہ کار، فارم، ڈیٹا، اور مدارس کے دیگر انتظامی امور پر تفصیلی مشاورت متوقع ہے ، تاہم فی الحال فریقین کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں