‘‘8 فروری کے پیچھے خاموش گیم،اپوزیشن لیڈر بنا کر دبائو کم کیا’’
کہا گیا احتجاج ملتوی کرالیں گے ،اگر یہ نہ مانے تو تقرری چیلنج کروادینگے ہوسکتا پی ٹی آئی کمیٹیوں میں واپس آجائے ، آج کی بات سیٹھی کیساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘آج کی بات سیٹھی کے ساتھ’’میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا اچکزئی کا اپوزیشن لیڈربننا خوش آئند ہے ،اب اکٹھے بیٹھیں گے ، بہت سی باتیں جو پہلے کمیٹیوں سے تحریک انصاف کے استعفوں کے باعث طے نہیں ہوپارہی تھیں اب ان پر اپوزیشن لیڈر کی موجودگی میں کوئی بات آگے چلے گی،تحریک انصاف ساراواک آؤٹ تو نہیں کرسکتی، یہ وہاں بیٹھ کر بات چیت کریں گے ، ہوسکتا ہے تحریک انصاف واپس کمیٹیوں میں آجائے ،الیکشن کمیشن سمیت کئی ایشوز ہیں جو ڈسکس کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک 8 فروری بھی سر پر چڑھا ہوا ہے ،اس کے پیچھے اور گیم بھی چل رہی ہے ،مجھے یہی لگتا ہے کہ خاموش گیم ہے ،سہیل آفریدی جب کراچی دورے پر گئے تو پی پی نے ان کو ٹوپی،اجرک پہنائی، پی پی پی نے یہ اس وجہ سے کیا کیونکہ پی پی پی پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بڑا پریشر ہے ، تین چار ایشوز پر،این ایف سی ایوارڈ ، لوکل گورنمنٹ،پانی کے ایشوز ہیں،یہ مسائل چل رہے ہیں۔
پی پی پی نے سوچا ہم بھی ان پر پریشر ٖڈٖالیں، پیپلز پارٹی کی یہی سوچ تھی کہ تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اپنے ایشو زکو حل کیا جائے ،میرا خیال ہے پھر پی پی کو پیغام آیا ہوگا کہ اب بس کرو،تحریک انصاف کے لوگوں کو ذرا کھینچ کر رکھو،ورنہ تم بھی ٹھیک ہوجاؤ گے ،اس کے بعد پیپلزپارٹی نے یوٹرن لے لیا،میں نے یہ بات اس لئے کی کہ میرے خیال میں ن لیگ بھی اس گیم میں آگئی ہے ،کیونکہ ن لیگ پر بھی بڑا پریشر ہے ،پچھلے دو تین ماہ سے باتیں چل رہی ہیں کہ ونڈر بوائے ، نیا فنانس منسٹر، نئی کابینہ کے اندر ٹیکنو کریٹس،یہ باتیں چل رہی ہیں،یہ بھی کہا جارہا ہے سرمایہ کاری نہیں آرہی، بیورو کریسی بڑے مسائل پیدا کررہی ہے ، ڈیلیوری نہیں ہورہی، اس کا مطلب ہے کہ حکومت پر پریشر ہے ،جس طرح کا پریشر پیپلز پارٹی پر ہے ۔پھر یہ بات بھی چلی کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کو چھ ماہ کی مہلت دے دی گئی ہے ،اس کی پھر تردید چلائی گئی،جب یہ باتیں ہورہی تھیں میں نے بھی اس وقت کہا تھا کہ یہ صرف پریشر ڈالنے کا ایک طریقہ ہے ، کوئی حکومت تبدیل نہیں ہونے جارہی، شہباز شریف کی جگہ کوئی نیا بندہ نہیں آرہا،یہ صرف پریشر ڈالنا تھا، ن لیگ پر جو پریشر تھا ا س کو کم کرنے کیلئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کروادی،سوال یہ ہے کہ شہباز شریف نے بغیر پوچھے یہ فیصلہ کیسے کیا؟،سپیکر وزیر اعظم سے پوچھے بغیر کچھ نہیں کرسکتے ،اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر ممکن ہے شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا ہو یا اپنے بڑے صاحب سے ، یہ بھی ہوسکتا ہے شہباز شریف نے دونوں سے پوچھا ہوکیونکہ بہت سے ایشوز ایسے ہوتے ہیں شہباز دونوں سے پوچھتے ہیں،یہ بھی ہوسکتا ہے بڑے صاحب کو یہ بات پسند نہ آئی ہو، کیونکہ محمود اچکزئی پر پہلے بھی انہو ں نے الزام لگائے ہوئے ہیں اینٹی پاکستان وغیر ہ وغیرہ،مجھے یہی لگتا ہے بڑے صاحب کو یہ بات پسند نہیں آئی ہوگی،ممکن ہے بڑے صاحب کو کوئی اعتماد دلایا گیا ہو،ہو سکتا ہے کہ پہلے یہ بات محمود اچکزئی سے کی گئی ہوگی کہ آپ 8 فروری کواحتجاج نہ کریں،ہمارے ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر بات چیت کریں،8 فروری ابھی دور ہے ، اگر یہ آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کرلیتے ہیں کمیٹیاں بن جاتی ہیں ،تو تھوڑا بہت تعاون ہونا شروع ہو جائے گا، ہوسکتا ہے کہ یہ دلائل بڑے صاحب کو دئیے گئے ہوں کہ آپ فکرنہ کریں ،ہم ان کو کنٹرول کرلیں گے اور8 فروری والا احتجاج بھی ملتوی کرالیں گے ،اگر یہ نہیں مانیں گے تو ہم ان کی تقرری چیلنج کروادیں گے ،میرا یہی خیال ہے کہ اس پربڑے صاحب خوش نہیں ہوں گے مگر انہوں نے اس کا انکار بھی نہیں کیا ہوگا۔