اچکزئی ، بانی پی ٹی آئی کی عدالت میں سرخرو ہونے کی کوشش کرینگے

اچکزئی ، بانی پی ٹی آئی کی عدالت میں سرخرو ہونے کی کوشش کرینگے

نامزدگی کا عمل حکومت سے زیادہ پی ٹی آئی کو نئی مشکلات سے دوچار کر سکتا

(تجزیہ:سلمان غنی)

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی کے ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر کے طور پر تقرری کے عمل سے ایوان میں خلا تو پُر ہو گیا اور اپوزیشن کو زبان بھی مل گئی اور اب وہ زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہو گی اور اس کے ساتھ ہی حکومت کو بھی اپوزیشن سے رابطے اور تعلقات کار کا موثر ذریعہ مل جائے گا ۔حکومت کے ساتھ اپوزیشن اور پی ٹی آئی کے لئے بھی اختلافات ہوں گے لیکن پارلیمانی اپوزیشن کی بنیادی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونا ایک سنگین ناکامی ہے ۔خود حکومت  کو بھی سمجھنا چاہئے کہ ایک موثر اپوزیشن محض احتجاج کے لئے ہی ایوان میں موجود نہیں ہوتی وہ قانون سازی میں حصہ لیتی ہے پالیسیوں پر سوالات اٹھاتی ہے اور حکومت کا محاسبہ کرتی نظر آتی ہے اور اگر اپوزیشن کا کردار موجود نہ ہو تو خود پارلیمنٹ محض ایک کھوکھلے ڈھانچہ کا روپ دھار لیتی ہے ۔

خود پی ٹی آئی کے اراکین کے اندر شدید تحفظات ہیں اور سپیکر سے رابطہ میں رہنے والے رہنما بھی ان کا ان کے سامنے اظہار کرتے نظر آتے رہے ہیں لیکن وہ پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے نوٹیفکیشن کے اجرا پر زور دیتے رہے لہٰذا ایک تو اب ایوان کے اندر نئے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے بعد اپوزیشن کا کردار بڑھے گا اور حکومت سے تناؤ اور ٹکراؤ میں بھی اضافہ ہوگا ۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی نے بعض ایشوز خصوصاً افغان طالبان کے کردار، دہشت گردی کے رجحانات اور پاکستان کی پالیسیوں بارے اس لئے محتاط رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ انہیں نوٹیفکیشن کا انتظار تھا اور اب جبکہ ان کی نامزدگی ہو چکی ہے تو انہیں جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایوان کے اندر اور باہر خود کو بانی پی ٹی آئی کی عدالت میں سرخرو ہونے کی کوشش کرتے نظر آئیں گے اور کچھ ایسی ہی رائے خود پی ٹی آئی کے ان اراکین کی ہے جو سیاسی محاذ پر مزاحمتی طرز عمل اختیار کرنے کے خلاف ہیں ۔ محمود خان اچکزئی کی نامزدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سیاسی منظرنامہ انتہائی نقصان دہ دائرے میں پھنسا نظر آ رہا ہے ۔ محمود اچکزئی اور اپوزیشن کے بعض دیگر مفاہمتی سیاست کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں تو خود بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اور پارٹی کے تنظیمی عہدیدار مذاکراتی عمل کی نفی کرتے دکھائی دے رہے ہیں

لہٰذا اس صورتحال میں محموداچکزئی کے لئے آگے مشکلات ہوں گی انہیں ایک طرف بطور اپوزیشن لیڈر اہم ایشوز پر ایسا بیانیہ لے کر چلنا ہوگا جو بانی پی ٹی آئی سے ملتا جلتا ہے تو دوسری جانب خود اپوزیشن کے اندر اور خصوصاً پی ٹی آئی میں کنفیوژن کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں تک سیاسی محاذ پر مفاہمتی عمل میں پیش رفت کا سوال ہے تو مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں اپوزیشن پر بھی عائد ہوتی ہے ،سیاست میں مفاہمت کا عمل درمیانی راستے لچک دار روئیے یا کچھ لو اور کچھ دو کی بنا پر ہوتا ہے اس لئے جب تک فریقین اپنے اپنے موقف پر لچک نہیں لائیں گے کچھ آگے نہیں بڑھے گاجہاں تک سپیکر قومی اسمبلی کے محمود خان اچکزئی بارے تحفظات کا معاملہ ہے تو وہ کہہ تو رہے ہیں کہ کسی کو پاکستان کی فوج اور عدلیہ کے خلاف بولنے نہیں دیں گے لیکن ان کا یہ کہنا ظاہر کر رہا ہے کہ انہیں خود معلوم ہے کہ محمود اچکزئی کی نامزدگی کن مقاصد کے تحت ہوئی ہے اور پارلیمانی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی نامزدگی کا عمل حکومت سے زیادہ خود اپوزیشن اور خصوصاً پی ٹی آئی کو نئی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے اس لئے کہ نئے حالات میں جیلوں سے باہر کی پی ٹی آئی محمود خان اچکزئی کے ایوان کے اندر اور باہر ان کے خیالات اور کردار کو ہضم نہیں کر پائے گی، واقفان حال کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کو محمود خان اچکزئی کی نامزدگی ہضم نہیں ہوئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں