پی آئی اے آپریشنز کی نجکاری ہوئی ،روزویلٹ اور دیگر اثاثے شامل نہیں
این سی سی آئی کا523رکنی عملہ ،15سٹیشنز قائم،اگلے سال بڑھا کر64 کیے جائینگے 2025میں ڈیڑھ لاکھ سائبر شکایات،متعددزیرسماعت،کسی میں سزا نہیں ہوئی واٹس ایپ سیٹنگ فیچرز کے باعث ہیکنگ ،تبدیلی کے بعد کمی :اسمبلی وقفہ سوالات
اسلام آباد (نامہ نگار،سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ پی آئی اے کے 135 ارب روپے کے حصص فروخت کیے گئے ہیں، پی آئی اے کے آپریشنز کی نجکاری کی گئی ہے جبکہ روزویلٹ ہوٹلز اور دیگر اثاثے اس عمل کا حصہ نہیں تھے ۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی رقوم کا بڑا حصہ پی آئی اے کی بہتری اور استعداد میں اضافے پر خرچ کیا جائے گا۔ وزیر مملکت خزانہ کے مطابق تمام متعلقہ فورمز سے منظوری لی گئی۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے ایوان کو بتایا کہ این سی سی آئی ایک نیا ادارہ ہے جس میں اس وقت 523 رکنی عملہ موجود ہے اور 15 سٹیشنز کام کر رہے ہیں جبکہ اگلے سال تک 64 سینٹر قائم کیے جائیں گے ۔ ادارہ ای آفس سسٹم کے تحت کام کرے گا اور مکمل ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا۔ سال 2025 میں ایک لاکھ 50 ہزار سائبر شکایات موصول ہوئیں، متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں تاہم تاحال کسی کیس میں سزا نہیں ہوئی۔وزیر مملکت نے کہا کہ واٹس ایپ کے بعض سیٹنگ فیچرز کے باعث ہیکنگ کی شکایات میں اضافہ ہوا تھا، فیچرز میں تبدیلی کے بعد شکایات میں کمی آ رہی ہے ۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ جعلی کالز اور آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے ذاتی معلومات اور ڈیٹا شیئر نہ کریں۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ امریکا کے لیے پی آئی اے کی پروازیں بحال کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور متعلقہ امریکی اداروں کے جواب کا انتظار ہے ۔ اسلام آباد میں خواتین کے تحفظ کے لیے ہاسٹلز سے متعلق سروے ، ہیلپ لائنز اور ڈیجیٹل سسٹمز پر کام ہو رہا ہے ۔ وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں واضح کیا کہ اسلام آباد میں ٹرام سروس شروع کرنے کا فی الحال کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔