ن لیگ سے کوئی اور وزیر اعظم آسکتا
اوچ شریف ( نمائندہ دنیا )سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیرا طلاعات محمد علی درانی نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں عمران خان کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی سے حکومت نے اعتماد سازی کا قدم اٹھایا۔۔۔
جس کے بعد مسلم لیگ (ن) سے ایسا کوئی لیڈر وزیراعظم آسکتا ہے جس پر پی ٹی آئی کو اعتراض نہ ہو۔ یہ حکومت اور اپوزیشن میں ایک ممکنہ سیاسی مفاہمت ہوسکتی ہے جس سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ سیاسی مفاہمت سے پاکستان کا فائدہ ہوگا، معیشت اورملکی نظام میں بہتری آئے گی، معرکہ حق کے بعد دنیا میں پاکستان نے جو عزت کمائی، عوامی حمایت بڑھنے سے پاکستان کے آگے بڑھنے کے راستے کھل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملکی مفاد میں ہر حد تک جاسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ڈیل کے بجائے ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ دبائو سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا نوازشریف یا کوئی اور سیاسی راہنما، پاکستان کے مفاد پر ہر سیاسی لیڈر اور پارٹی نے اپنا کردار ادا کیا ۔