کاروباری لوگ صنعتیں بند نہ کریں:اچھے دن آنیوالے،زرمبادلہ ذخائر وسط اپریل میں45ارب ڈالر تک پہنچ جائینگے:چیئرمین نیب
سکیورٹی،ٹیکس مسائل،کاروباری طبقے کی پریشانی کا ادراک،ڈاؤن سائزنگ کریں نہ سرمایہ باہر لے جائیں،کراچی اکیلا ملکی قرض اتار سکتا، پگڑی اچھالے بغیر 48 ارب ڈالر کے مساوی رقم ریکور سکھر حیدرآباد موٹروے کی لاگت بدعنوانی ،تاخیر کے باعث بڑھی،لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد،وزیراعلیٰ سندھ کیساتھ اجلاس، سرکاری زمینوں کے فراڈ کیخلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق
کراچی(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین قومی احتساب بیورو لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کراچی میں عمائدین اور کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کاروباری طبقے کی پریشانیوں اورچیلنجز کا ادراک ہے ،کاروباری اعتماد بہت اچھا نہیں ہے ، ٹیکسوں کے مسائل ہیں، سکیورٹی بہت آئیڈیل نہیں ہے ، یہ معاملات میرے نہیں ہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں، زرمبادلہ ذخائر اپریل کے درمیان 45 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ،عین وقت پر روزہ نہ توڑیں، صنعتیں بند نہ کریں، سرمایہ باہر نہ لے جائیں اور ڈاؤن سائزنگ سے اجتناب کریں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کسی کی پگڑی اچھالے بغیر دو برس میں 48 ارب ڈالر کے مساوی رقم ریکور کی ہے ۔ انہوں نے کراچی کے لیے کہا کہ شہر اکیلا پاکستان کا قرض اتار سکتا ہے اور بلڈرز اب بلندیوں کو چھوتی اور جدید تعمیرات کا منصوبہ بنائیں، کیونکہ کراچی میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے ۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے بتایا کہ نیب نے گزشتہ دو برسوں میں 11 ہزار ارب روپے سے زائد ریکوریز کیں اور 55 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی سندھ حکومت کو واگزار کرائی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ تین ماہ میں مزید 11 ہزار ارب روپے ریکور کیے جائیں گے ۔ چیئرمین نیب نے بتایا کہ آج پانچ ارب روپے کی اشیا، جن میں سونا، گاڑیاں اور دیگر قیمتی اثاثے شامل ہیں، سندھ حکومت کو واپس کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 1971 میں سازش کے تحت بھائی کو بھائی سے الگ کیا گیا تھا، لیکن آج پاکستان کی عالمی شناخت مضبوط ہو رہی ہے ۔ انہوں نے سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے کی کرپشن سے متعلق بتایا کہ منصوبے کی لاگت بدعنوانی اور کارروائی کے باعث تاخیر سے 280 ارب سے بڑھ کر 400 ارب روپے ہو گئی ہے ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈیفنس ایکسپورٹس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ملک کی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے تاجروں اور صنعتکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ نیب بزنس فیسیلی ٹیشن سینٹر کے ذریعے کاروباری افراد کو سہولت فراہم کرے گا اور کسی بھی غیر قانونی مداخلت کے بغیر منصوبوں کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور ملک کی معیشت کی مضبوطی کے لیے سب کو اپنے وسائل اور صلاحیت پر انحصار کرنا ہوگا،نیب کے اقدامات سے شہر اور ملک میں شفافیت اور مالی استحکام آئے گا۔دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب)لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)نذیر احمد نے سندھ میں سرکاری زمین پر ہونے والے فراڈ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیاہے ۔اس سلسلے میں اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا، جس میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران قومی احتساب بیورو نے صوبے بھر سے بازیاب کرائی گئی سرکاری جائیدادیں حکومت سندھ کے حوالے کیں۔ چیئرمین نیب نے سرکاری زمین کی بازیابی سے متعلق تفصیلی پیشرفت رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ اس وقت قومی احتساب بیورو کے پاس 188 کیسز زیر کارروائی ہیں، جن میں 154 انکوائریاں اور 34 تحقیقات شامل ہیں اور ان کیسز میں مجموعی طور پر 461,488 ایکڑ رقبہ شامل ہے ۔
اجلاس میں جن بازیابیوں کو نمایاں کیا گیا، ان میں کراچی میں واگزار کرائی گئی635 ایکڑ شہری زمین ، کلفٹن بلاک اول اور دوم میں سمندر سے حاصل کی گئی 350 ایکڑ زمین،سجاول اور ٹھٹھہ کے جنگلات کی تقریباً 400,000 ایکڑ زمین اور جامشورو میں دیہ بابر بند اور ہتھال بٹھ میں 83 جعلی ریونیو اندراجات منسوخ کرکے بازیاب کرائی گئی تقریباً 1,040 ایکڑ زمین شامل ہے ۔ چیئرمین نیب نے سندھ حکومت، بالخصوص چیف سیکرٹری اور صوبائی انتظامیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں قومی احتساب بیورو اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان تعاون کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے غیرقانونی الاٹمنٹس کی نشاندہی اور منسوخی میں بورڈ آف ریونیو کے کردار کی بھی خصوصی تعریف کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے قومی احتساب بیورو کی پیشہ ورانہ کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے مالیت کی زمین کی واپسی سندھ کے عوام کے لیے اہم سنگ میل ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بازیاب شدہ زمین کو عوامی مفاد کے منصوبوں، جن میں پارکس اور تفریحی مراکز شامل ہیں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اجلاس میں مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا، جس کے تحت سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں ٹاسک فورس کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ٹاسک فورس میں بورڈ آف ریونیو، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور قومی احتساب بیورو کے سینئر افسر شامل ہوں گے جو ہر 15 دن بعد اجلاس منعقد کریں گے اور بحال شدہ سرکاری اثاثوں کے تیز رفتار تصرف کو یقینی بنائیں گے ۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جنگلات اور مینگروز کی زمین سے متعلق سمریوں کی جلد منظوری کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں تجاوزات کو روکا جا سکے ۔