ایک وقوعہ25ٹرایل، کوئی چیف جسٹس کو نہیں بتایا کیسے کیسے جج ڈیپوٹیشن لائے :جسٹس محسن اختر

ایک وقوعہ25ٹرایل، کوئی  چیف جسٹس کو نہیں بتایا کیسے کیسے جج ڈیپوٹیشن لائے :جسٹس محسن اختر

FIR،کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ کیسے کیا گیا؟ممبر انسپکشن ٹیم کو کہتا ہوں ججز کی تھوڑی ٹریننگ کرائیں غلطیاں ہو جاتی لیکن بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں، ہائیکورٹ نے دیکھنا نیچے عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا:ریمارکس

 اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے قتل کے مقدمہ میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم ذیشان مسیح کی جیل اپیل میں پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کومعاونت کیلئے طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ایک ہی وقوعہ کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ کیسے کیا گیا؟ ایک ہی وقوعہ تھا، ٹرائل دو الگ الگ کر دیئے گئے ، یہ قانونی سوال ہے ۔ وکیل دوسرے ٹرائل سے شہادت دکھا رہے ہیں تو وہ عدالت کیسے دیکھ سکتی ہے ؟ وکلاء چیف جسٹس سے مل کر بتائیں کہ جج صاحب نے یہ آرڈر کر دیا ہے ۔ جسٹس محسن کیانی نے استفسار کیا یہ کون سے جج صاحب تھے ؟ وکیل نے بتایا جج افضل مجوکہ صاحب نے کیس کا فیصلہ کیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا بار سے کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو گواہوں کے بغیر فیصلہ کر دیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں، وکیل کے مطابق جج صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فیصلہ کر دیا، قتل جیسے مقدمہ میں کوئی جج اس طرح جلدبازی کرے گا تو ظلم ہو گا، میں ممبر انسپکشن ٹیم کو کہتا ہوں ججز کی بھی تھوڑی ٹریننگ کرائیں، غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں، ہم نے سیکھنا ہے ، ہائیکورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سپروائز کرنے کا اختیار ہے ، ہائیکورٹ نے دیکھنا ہے کہ نیچے کی عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا ہے ، سماعت فروری تک ملتوی کر دی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں