سکیل افسران کے کارکردگی آڈٹ کیلئے فنانشل بولی کا عمل مکمل
سادات ایسوسی ایٹ نے 3کروڑ 43 لاکھ کی بولی دی ، آڈٹ کا کام ملنے کا امکان رپورٹ کی بنیاد پر افسران کی نوکری برقرار رکھنے یا مدت بڑھانے کا فیصلہ ہوگا
اسلام آباد (ایس ایم زمان)وفاقی وزارتوں میں سپیشل پروفیشنل پے سکیل اور ایم پی سکیل کے تحت تعینات 106 افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے سلسلے میں فنانشل بولی کا عمل مکمل کر لیا گیا ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنیکل مرحلے میں کوالیفائی کرنے والی دو کمپنیوں میں سے سادات حیدر مرشد ایسوسی ایٹس نے 3 کروڑ 43 لاکھ روپے کی کم ترین بولی دے کر فنانشل کوالیفکیشن حاصل کر لی جبکہ بیکر ٹیلی ایم آئی کیو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس نے 5 کروڑ 95 لاکھ روپے کی بولی دی تھی۔ فنانشل بولی کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے کم ترین بولی کی بنیاد پر سادات حیدر مرشد ایسوسی ایٹس کی منظوری کی سفارش کی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق پری کوالیفکیشن کے ٹیکنیکل مرحلے میں سادات حیدر مرشد ایسوسی ایٹس اور بیکر ٹیلی کو اہل قرار دیا گیا تھا۔ اب 13 وفاقی وزارتوں میں تعینات ایم پی سکیل اور سپیشل پروفیشنل پے سکیل افسران کی کارکردگی کا ہیومن ریسورسز، انتظامی اور آڈٹ بنیادوں پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا۔
آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ افسران کی ملازمت برقرار رکھنے یا کنٹریکٹ میں توسیع سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے ۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں میں 71 افسران ایم پی اسکیل کے تحت تعینات ہیں جن میں ایم پی سکیل ون میں 22، ایم پی سکیل ٹو میں 20 اور ایم پی سکیل تھری میں 29 افسران شامل ہیں۔ کابینہ ڈویژن میں 9، وزارت موسمیاتی تبدیلی میں 4، وزارت اطلاعات و نشریات میں 1، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں 1، وزارت میری ٹائم افیئرز میں 6، وزارت خارجہ میں 3، وزارت خزانہ میں 7، وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں 2، وزارت ریلوے میں 8، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں 2، وزارت دفاع میں 1 جبکہ وزارت قانون و انصاف اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 11، 11 افسران ایم پی سکیل پر تعینات ہیں۔اسی طرح سپیشل پروفیشنل پے سکیل کے تحت وزارت خزانہ میں 7، وزارت صنعت و پیداوار میں 1، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 2، وزارت تجارت میں 2، وزارت اطلاعات و نشریات میں 2، وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی میں 2، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں 7، وزارت پٹرولیم میں 2 اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں 7 افسران تعینات ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان افسران کی کارکردگی کے جامع جائزے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی منظوری دے دی ہے ۔