’’ جہد ِ مسلسل‘‘شاندار شخص کی شاندار داستانِ حیات:قارئین
ذوالفقار چیمہ کے اعلیٰ کردار، برجستہ اور شگفتہ تحریر نے اسے دلنشین بنا دیا خودنوشت کی تقریبِ پذیرائی 3فروری کو اکیڈمی آف لیٹرز میں منعقد ہو گی
اسلام آباد (دنیا رپورٹ)ممتاز دانشور، کالم نگار سول سروسز کے رول ماڈل اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی چند روز قبل شائع ہونے والی خودنوشت ’’ جہدِ مسلسل‘‘ کو بے حد پذیرائی ملی ہے اور یہ ہر طبقۂ فکر کے لوگوں میں مقبول ہوئی ہے ۔ سول سرونٹس کے علاوہ ملٹری افسران، ڈاکٹرز، بینکرز، سیاستدان، وکلا ، گھریلو خواتین، اساتذہ اور طلبا بھی بڑے شوق اور دلچسپی سے یہ خودنوشت پڑھ رہے ہیں۔قارئین ،ملک کے ممتاز دانشوروں اور اہلِ علم ودانش نے جہدِ مسلسل کو ایک شاندار شخص کی شاندار داستانِ حیات قرار دیا ہے ۔ معروف کالم نگاروں نے لکھا ہے کہ مصنف ذوالفقار چیمہ کے اعلیٰ کردار اور ان کی تحریر کی برجستگی، روانی اور شگفتگی نے کتاب کو بے حد دلنشین بنا دیا ہے ۔مصنف نے ابتدائی ابواب میں اپنے بچپن، گائوں، والدین اور ابتدائی تعلیم کا احوال لکھا ہے ، اس کے بعد تعلیمی درسگاہوں کے واقعات بھی بڑے دلچسپ انداز میں تحریر کئے ہیں۔
انہوں نے سبی، ڈیرہ بگٹی، سوئی، کاہان سے لیکر پاکپتن، مظفرگڑھ، بھلوال اور راولپنڈی میں سیاسی اور مذہبی مجاوروں سے چپقلش کے بڑے دلچسپ اور چشم کشا واقعات تحریر کئے ہیں۔ بتا یا گیا راولپنڈی سے جوا ختم کرنے پر مقامی ایم این اے نے کس طرح انہیں تبدیل کرا دیا، لاہور میں انہوں نے کس طرح امتحانی مافیا کی کمر توڑی، رحیم یار خان میں ڈاکوئوں کے ساتھ کس نوعیت کی پنجہ آزمائی ہوتی رہی۔ رحیم یار خان سے وزیراعظم نے انہیں بلایا اور گاڑی میں ان کا پرائم منسٹر کے ساتھ کیا مکالمہ ہوا، پرائم منسٹر کے سٹاف افسر کے طور پر انہوں نے ملک کی اہم سیاسی تاریخ کو تاریخی قلعہ شبقدر میں تین سال گزارنے اور افریقہ میں پلس کپتانیاں کرنے کا احوال بہت ہی دلچسپ ہے ، قارئین کہتے ہیں کہ کتاب قاری کو اس طرح جکڑ لیتی ہے کہ اسے ختم کرنے سے پہلے نہیں چھوڑا جاسکتا۔
ذوالفقار چیمہ کی دوسری کتاب ‘‘افکارِ تازہ’’ کا پہلا مضمون والدہ مرحومہ کی یاد میں ہے اور کئی سینئر رائٹرز کا کہنا ہے کہ ماں کی یاد میں دنیا بھر سے دس مضامین کا انتخاب کیا جائے تو یہ مضمون ان میں ضرور شامل ہو گا۔مصنف کی کتابوں کے بارے میں پہلی تقریب پذیرائی اکیڈمی آف لیٹرز میں 3فروری کو منعقد ہو رہی ہے جس میں ممتاز دانشور اور شاعر اظہارالحق، ڈاکٹر نجیبہ عارف، سابق سفیر پاکستان جاوید حفیظ اور دیگر اظہارِ خیال کریں گے ۔ دوسری تقریب لاہور میں 11فروری کو اور تیسری تقریب اسلام آباد میں 15فروری کو ہو گی۔