شہباز، آفریدی ملاقات، تعاون ضروری قرار : دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گے : وزیراعظم، وفاق کے ذمے بقایا جات پر بات ہوئی : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،انسداد دہشتگردی کیلئے اداروں کو مضبوط کیا جائے ، صوبوں کو ساتھ لیکر چلنے کے وژن پر عمل پیرا ہیں،صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئے :شہباز شریف عمران خان کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ،دہشتگردی پر ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی :سہیل آفریدی ، وزیر اعظم سے صدرعالمی بینک ، اقوام متحدہ کی ثقافتی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کی ملاقاتیں
اسلام آباد(نامہ نگار، کامرس رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں )وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن وامان کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کوششیں مزید بڑھائے ، وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی ۔جبکہ وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق کے ذمے بقایا جات پر بات ہوئی ۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم سے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ملاقات کی ،جس میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔وزیراعظم نے کہا صوبائی حکومت با اختیار ہے ، صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں،وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے ، خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے ، صوبے کے عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی۔وزیرِ اعظم نے قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے ، باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تعاون سے امن وامان قا ئم ہو گا، شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا اشتراک سے اہداف حاصل ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا نے قبائلی اضلاع میں پیسے جاری کرنے کا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2600 ارب روپے رکے ہوئے ہیں،تیراہ، کرم اور باجوڑ کے جو لوگ قربانی دے رہے ہیں،ان کے لیے 4 ارب روپے کی رقم کم ہے۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں امیر مقام اور رانا ثناء اللہ جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم موجود تھے ۔وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ شہبازشریف نے مجھے ملاقات کی دعوت دی، ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بات ہوئی، بانی کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم سے کسی سیاسی چیز پر بات نہیں ہوئی۔سہیل آفریدی نے کہا سب سے پہلے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کی گئی۔ صوبے کیلئے این ایف سی،این ایچ پی اوروفاق پر بقایا جات پر بات ہوئی، انہوں نے احسن اقبال کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم سے دہشتگردی کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی، خیبرپختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کرچکی ہے ، دہشتگردوں کا کوئی صوبہ ،ملک اورنہ کوئی مذہب ہوتا ہے ، دہشتگردی کی ہم سب کو بحیثیت پاکستانی مذمت کرنی چاہئے ، ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کرتے رہیں گے ۔وادی تیراہ اورکرم کے لوگ قربانی دے رہے ہیں اس کے سامنے یہ 4ارب روپے کچھ بھی نہیں، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔وزیراعظم سے ملاقات بطور وزیراعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی ورکرشاید میں نہ بیٹھتا، خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی، دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی۔وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور سہیل آفریدی کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی ملاقات سمیت کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی صرف صوبائی معاملات زیر بحث آئے ۔ سب پاکستان کے لیے متحد ہیں، دہشتگردی کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں تمام ادارے ، افواج اور عوام قربانیاں د ے رہے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ اداروں کے خلاف بات کرنا اچھی بات نہیں ہے ، دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اب بھی سیاست کو پیچھے رکھ کر آگے بڑھنا چاہئے ، ہم بھی کہتے ہیں کہ بیٹھ کر بات کرنی چاہئے ، سیاست اپنی جگہ لیکن صوبے کی نمائندگی اور قریبی رابطہ رکھنا چاہئے ۔ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک گروپ کی طویل المدتی شراکت داری اور ترقیاتی ترجیحات کے فروغ کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پائیداراقتصادی استحکام کے حصول کے لئے جامع ، کثیرالجہتی اصلاحاتی پروگرام پر تندہی سے عمل پیرا ہے ، اقتصادی ترقی اور اصلاحات میں عالمی بینک گروپ کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا جنہوں نے یہاں ان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان پائیدار اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے ایک جامع، کثیر الجہتی اور ملکی ضروریات کے مطابق تشکیل دئیے گئے اصلاحاتی پروگرام پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے۔
وزیراعظم اور اجے بنگا نے اس بات پر زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سے ہم آہنگ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بروقت اور بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اقدامات ترقیاتی منصوبوں میں عملدرآمد کی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گے ۔شہباز شریف سے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم(یونیسکو) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد الاینانی نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم نے جامع اور معیاری تعلیم کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے لائحہ عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے یونیسکو کی بنیادی اقدار کی پاسداری کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے 6 مقامات کے تحفظ اور اس امر میں یونیسکو کے تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز جیسی مزید جگہوں کو تقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت دی۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم سے اٹلی کے شہر وینس میں مئی تا نومبر2026 منعقد ہونے والی تاریخی آرٹ ایگزیبیشن‘‘ 61ویں وینس بیانالے 2026 ’’میں پاکستانی پویلین کی ٹیم نے ملاقات کی۔ پاکستان پویلین ٹیم نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ وینس میں رواں برس نمائش میں پاکستان کے روایتی آرٹ، اس کی جمالیات و خوبصورتی کو دنیا بھر سے آئے مہمانوں و سیاحوں کو دکھایا جائے گا۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ مئی سے نومبر 2026ء تک پاکستانی پویلین کے تحت متعدد ایونٹس کا اہتمام کیا جائے گا جو پاکستانی ثقافت اور فن کے مختلف پہلوؤں بارے دنیا بھر سے آئے مہمانوں کو آگہی دیں گے ۔وفد نے وزیرِ اعظم کو پاکستانی پویلین کے افتتاح کی بھی دعوت دی۔