ایران سے 40 روپے لٹر تیل کراچی میں 200 کا فروخت، روزانہ 4 ارب منافع، روکنے پر امن و امان تباہ : وزیر دفاع

ایران سے 40 روپے لٹر تیل کراچی میں 200 کا فروخت، روزانہ 4 ارب منافع، روکنے پر امن و امان تباہ : وزیر دفاع

جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں بلوچستان میں سیاسی عناصر نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی،وفاق اور صوبوں میں ہر سطح پر کرپشن، یہ ملک کو دیمک کی طرح کھارہی ہے بلوچستان میں محرومیوں کا بیانیہ بے بنیاد ، دہشتگردوں کے پاس رائفل ہی 20 لاکھ روپے کی ہے ،بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنا ہوگی ، ، خواجہ آصف بحران سے نمٹنے کیلئے ایوان کو کردار ادا کرنا چائیے ،نہیں تو ہم اتنے relevant پہلے بھی نہیں مزید irrelevantہو جائینگے ،وما علینا الا البلاغ :قومی اسمبلی میں خطاب

 اسلام آباد(نامہ نگار، سٹاف رپورٹر، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایران سے 40روپے فی لٹر تیل خرید کر کراچی میں 200روپے میں فروخت ہو رہا اور یومیہ چار ارب روپے تک منافع کمایا جا رہا ہے ،روکنے پر امن وامان تباہ کیا گیا،جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں بلوچستان میں سیاسی عناصر نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی،وفاق اور صوبوں میں ہر سطح پر کرپشن ہے ، یہ ملک کو دیمک کی طرح کھارہی ہے ۔بلوچستان میں محرومیوں کا بیانیہ بے بنیاد ہے ، دہشتگردوں کے پاس رائفل ہی 20 لاکھ روپے کی ہے ،اختلاف بھلا کر پاک فوج کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے ۔بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنا ہوگی ، بحران سے نمٹنے کیلئے ایوان کو کردار ادا کرنا چاہیے ،نہیں تو ہم اتنے relevant پہلے بھی نہیں مزید irrelevant ہو جائینگے ،وما علینا الا البلاغ ۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سختی کی، مافیا کے لوگ ایران سے 40 روپے لٹر تیل خرید کرکراچی میں آکر 200 روپے میں بیچتے اور تیل کی سمگلنگ سے یومیہ چار ارب روپے کمائے ، یہ دھندے بند ہوگئے ، چمن بارڈر پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ہوا، لوگ کہتے ہیں نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ان لوگوں کی سیاسی نہ قوم پرست شناخت ہے ، بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔ سامان واپس پاکستان میں آنا شروع ہوگیا اور مارکیٹس میں بکنا شروع ہو گیاہماری حکومت نے سختی سے اس کو روکا۔ وہ تحریک سمگلنگ کی تحریک بن گئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین اور بچوں پر حملے کرنے والے دہشتگردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ۔

بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے ۔بی ایل اے چوروں اور سمگلرز کی آرمی ہے جو فساد پھیلا رہی ہے ،ایسے عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور انہیں پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کو اختلافات بھلا کر پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،صو بے میں لڑنے والوں کے پاس وہ اسلحہ ہے جو سکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں۔بے گناہ لوگوں کو مارنا کون سا بیانیہ ؟ ۔کوئی شک نہیں وفاق سمیت ہر صوبے میں کرپشن ہے ۔دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اِن کا مسنگ پرسن میں نام ہے ، مسنگ پرسن مسقط، عمان، دبئی میں بیٹھے اور اُن کی فیملیز یہاں ریاست سے الاؤنس لے رہی ہیں۔کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا، بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے ، دہشت گردوں کے پاس20،20 لاکھ روپے کی رائفل ہے ، دہشت گرد امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں، دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ،سمگلرز ایران سے 40روپے فی لٹر تیل خرید کر 200روپے میں فروخت کر رہے تھے اور یومیہ چار ارب روپے تک کمائے جا رہے تھے ،یہ غیر قانونی دھندے بند ہونے کے بعد چمن بارڈر پر بڑا احتجاج بھی ہوا اور بعض حلقوں کی جانب سے نام نہاد نیشنلسٹ تحریکوں سے مذاکرات کا مطالبہ سامنے آیا۔انہوں نے کہا کہ ان عناصر کی نہ سیاسی اور نہ ہی حقیقی قوم پرست شناخت ہے بلکہ بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کے لیے تحریک چلائی جا رہی ہے ۔وزیر دفاع نے کہا کہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ افراد سمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین،بیوروکریسی اور علیحدگی پسند عناصر کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے ۔خواجہ آصف کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں 177دہشت گرد مارے گئے جبکہ 16سکیورٹی اہلکار اور 33عام شہری شہید ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسیع اور دشوار گزار جغرافیے کے باعث سکیورٹی چیلنجز سنگین ہیں اور اسی لیے فوج کی بڑی تعداد میں تعیناتی ناگزیر ہے ۔وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت 15096سکولز،13کیڈٹ کالجز اور 13بڑے ہسپتال موجود ہیں اس کے باوجود احساسِ محرومی کا بیانیہ جان بوجھ کر بنایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے تحت بلوچستان کا حصہ 933ارب روپے ہے ،کوئٹہ کے وسط میں ایرانی تیل کے پمپ پائے جاتے ہیں جبکہ سرداری نظام نے صوبے کے وسائل کو نقصان پہنچایا۔خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں کسی بھی صوبے کے مقابلے میں زیادہ ایئرپورٹس ہیں،غیر فعال ایئرپورٹس کو فعال کیا جا رہا ہے جبکہ مارے جانے والے دہشت گردوں کے نام مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل کر دئیے جاتے ہیں اور بعض لاپتہ افراد بیرونِ ملک بیٹھے ہیں جن کے خاندان پیسے وصول کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد آپریشنز کیے گئے اور آج بھی بھارتی پراکسیز سرگرم ہیں،بلدیاتی نظام جہاں بھی آیا اس نے ترقی کو فروغ دیا،تقسیمِ پاکستان کے وقت کے مقابلے میں آج تعلیمی ادارے اور ہسپتال کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ کرپشن ایک دیمک ہے جو بلوچستان سمیت تمام صوبوں اور مرکز میں موجود ہے ،کرپشن کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے ،انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل لاپتہ افراد کی تعداد سات سو سے ساڑھے سات سو کے درمیان تھی۔خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان اتنا بڑا علاقہ ہے جسے کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج ہے ،وہاں لڑنے والوں کے پاس ایسا جدید اسلحہ ہے جو سکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں،ایک ایک ہتھیار کی قیمت بیس ہزار ڈالر تک ہے اور یہ امریکی اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے ،یہ ایک سنجیدہ سوال ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں مزدوروں اور بے گناہ شہریوں کا قتل کسی بھی بیانیے کا حصہ نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ شہدا کے خون پر سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی،تمام سیاستدانوں کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی پاکستان تک پہنچی،ماضی میں پرائی جنگوں کا بوجھ اٹھایا گیا اور آج ہمارے بچے اس کی قیمت جانوں کی صورت ادا کر رہے ہیں،ایسے میں فوجی جوانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا اور پوری قوم کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کو ریاست کی طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا، پورا ایوان دہشت گردی کے خلاف یکجا ہو جائے ، دہشت گردوں کے خلاف لڑنا صرف افواج نہیں پوری قوم کی ذمہ داری ہے ۔ وزیر دفاع نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں بھی ٹرانزٹ ٹریڈ کا مافیا ہے ۔کریمنل مافیا طاقتور ہو جاتا ہے تو بی ایل اے کو ہائر کر لیتا ہے ۔

بلوچستان میں متعدد آپریشنز ہوئے ، بلوچستان میں آج بھارتی پراکسیز کام کررہی ہیں، ہمیں اپنے اختلاف بھلا کے پاک فوج کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے ، میں اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں بلوچستان میں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، ریاست پوری قوت کے ساتھ عورتوں بچوں اور فورسزکو شہید کرنے والوں کو جواب دے گی، یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم شہدا کے جنازے پڑھنے جائیں اور کوئی سیاسی مفاد کے لئے شہدا کے جنازوں میں شریک نہ ہو، ہم قطعی طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہاکہ خواجہ آصف میرا دوست بھی ہے ، بہترین سیاسی کارکن رہا ہے جنہوں نے ان کے لئے تقاریر لکھیں، انتہائی ناقص اور کسی حد تک غلط بھی ہیں۔سوئی گیس سوئی کے علاقے سے نکلی ۔میرے گاؤں میں آج تک گیس نہیں پہنچی ،پاکستان کو جوڑنے کا صرف ایک طریقہ ہے عوام کے اس ایوان کو مضبوط بنائیں ۔

جو صحیح طریقے سے الیکٹ ہوں ان کو یہاں لائیں ۔ بلوچستان پربحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا کہ یہ کسی حقوق کی تحریک نہیں بلکہ خالص دہشتگردی ہے ۔ قومی ایکشن پلان پر سنجیدہ عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بلوچستان میں حملہ پورے پاکستان پر حملہ ہے ۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں سہولیات سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا۔رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ 31 جنوری کو پیش آنے والا واقعہ انتہائی سنگین نوعیت کا تھا اور صوبے کے مختلف علاقوں سے اب بھی تشویشناک اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواہوں کا سدباب کرنا بے حد ضروری ہے ۔اگر مسائل پر سنجیدہ بات چیت نہ ہوئی تو نقصان بڑھ سکتا ہے ۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ملک کے امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے ۔رکن اسمبلی آسیہ اسحاق نے بھی بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت کی اور کہا کہ قومی معاملات پر متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں