ٖضمیر اور ہمدردی قانون کا نعم البدل نہیں، ہائیکورٹس اس بنیاد پر حکم نہیں دے سکتیں : وفاقی آئینی عدالت
اضافی امتحانات کا حکم عدالتی اختیار سے متجاوز ،تعلیمی اداروں کے معاملات میں عدالتی مداخلت انتہائی محدود ہونی چاہئے :فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کاگردے کی پیوندکاری کے باعث امتحان نہ دے پانے والے طالبعلم کیلئے سپر سپلیمنٹری امتحان کا فیصلہ کالعدم
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ضمیر اور ہمدردی قانون کا نعم البدل نہیں، ہائیکورٹس اس بنیاد پر حکم نہیں دے سکتیں ، خصوصی یا اضافی امتحانات کا حکم دینا عدالتی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے ۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ساعت کی اور اٹھارہ صفحات پر مشتمل تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کیا، فیصلے کے مطابق کیس سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ کے 6 نومبر 2025 کے حکم کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق جواب دہندہ الطاف حسین سومرو میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دوسرے سال کے ایم بی بی ایس طالب علم تھے جو گردے کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ )کے باعث سالانہ امتحانات اور بعد ازاں فزیالوجی کے سپلیمنٹری امتحان میں شرکت نہ کر سکے۔
طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے خصوصی رعایت کی درخواست کی تاہم وائس چانسلر نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں جس کے بعد طالب علم نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔سندھ ہائی کورٹ نے معاملے کو غیر معمولی حالات قرار دیتے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو طالب علم کے لئے خصوصی سپر سپلیمنٹری امتحان منعقد کرنے کا حکم دیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی قانونی حق موجود نہ ہو تو رِٹ آف مینڈمس جاری نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ ججز کا ضمیر، ہمدردی یا ذاتی احساسات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے ، اور عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے دینے کی پابند ہیں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں تمام ادارے ، بشمول عدلیہ، آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قانون کی عدم موجودگی میں ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتیں اور نہ ہی تعلیمی اداروں کو ایسے خصوصی یا سپر سپلیمنٹری امتحانات کے انعقاد کا پابند کیا جا سکتا ہے جن کی اجازت کسی قانون، قاعدے یا ضابطے میں موجود نہ ہو۔وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور طالب علم کی جانب سے دائر آئینی درخواست مسترد کر دی۔