سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل سپلائی،پاکستان نے ایک سال تو سیع کی درخواست کردی

سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل سپلائی،پاکستان نے ایک سال تو سیع کی درخواست کردی

ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے ادھار سعودی تیل کی سہولت رواں ماہ تک مؤثر،مارچ سے قرض کی واپسی، سعودی عرب نے پاکستانی درخواست پر تعاون کیلئے وقت مانگ لیا 5 ارب ڈالر کا سعودی ڈیپازٹ بھی موجود، دسمبر میں مدت پوری ہونے پر 2ارب ڈالر کی واپسی 1سال کیلئے مؤخر،3ارب ڈالر کی میعاد جون میں مکمل، توسیع کیلئے بات جاری

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)پاکستان نے سعودی عرب کو مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کو مزید ایک سال کیلئے بڑھانے کی درخواست کر دی ، معاشی ٹیم کی جانب سے باقاعدہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مؤخر ادائیگیوں پر تیل حاصل کرنے کیلئے کریڈٹ ٹائم کو ایک سال سے  بڑھا کر 2 سال یا اس سے زیادہ کیا جائے ، حکومت کی درخواست پر معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے جو کہ جلد فائنل ہونے کا امکان ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مؤخر ادائیگیوں پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی سعودی آئل فیسیلیٹی رواں ماہ فروری 2026 تک مؤثر رہے گی۔ سعودی آئل فیسیلیٹی کے تحت ماہانہ 10 کروڑ ڈالر پاکستان کو ملتے ہیں۔ معاہدے کے تحت یہ قسط فروری 2026 تک جاری رہے گی ۔اس معاہدے کے تحت گزشتہ سال کے آغاز پر ہی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کا آغاز ہو گیا تھا۔

اب ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے سعودی حکام کو درخواست کی گئی کہ مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کو جاری رکھا جائے تاکہ بیلنس آف پیمنٹ کا پریشر نہ ہو اور ایکسٹرنل ادائیگیوں کا دباؤ کم کرنے کیلئے ادائیگیوں کا دورانیہ بھی بڑھایا جائے ۔معاشی ٹیم کا اہم وفد بھی سعودی عرب کے دورہ پر ہے جس کا مقصد پاک سعودی تعلقات میں اضافے کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے مختلف منصوبوں پر سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت کرنا ہے ۔سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس پاکستان کے پاس موجود ہیں، ان میں سے 2 ارب ڈالر ڈیپازٹس کی میعاد دسمبر 2025 میں مکمل ہونے پر مزید ایک سال کیلئے رول اوور کرایا جا چکا ہے ۔اس کے علاوہ 3 ارب ڈالر کی میعاد جون 2026 میں مکمل ہو گی۔ 3 ارب ڈالر کے ان ڈیپازٹس کی میعاد بڑھانے کیلئے سعودی عرب کے ساتھ پہلے ہی بات چیت ہو رہی ہے ۔وزارت خزانہ حکام کے مطابق 3 ارب ڈالر کا رول اوور کرانے میں ابھی وقت باقی ہے ،لیکن رول اوور میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور اپنے وقت پر جب ڈیپازٹ میچور ہو گا تو رول اوور ہوتا رہے گا۔ مؤخر ادائیگیوں پر سعودی فنڈز فار ڈویلپمنٹ ہر ماہ پاکستان کو 10 کروڑ ڈالر ادا کر رہا ہے ۔

ادھار تیل کی سہولت کیلئے فروری 2025 میں 10 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط ملی تھی اور ہر ماہ کے دوران قسطوں میں رقم موصول ہوئی ،اب فروری میں ملنے والی قسط موجودہ معاہدے کے تحت آخری قسط ہو گی اور آئندہ ماہ مارچ 2026 سے پاکستان قرض رقم کی واپسی شروع کر دے گا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ معاہدے کے تحت 1اعشاریہ 2 ارب ڈالر کی رقم پاکستان کو ایک سال کے دوران مل چکی ہے ۔ پاکستان سعودی فنڈز فار ڈویلپمنٹ سے اس سے قبل بھی یہ سہولت لے چکا ہے ، اس کا مقصد ادھار تیل کی سہولت سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لانا ہے ،کیونکہ آئی ایم ایف سے ایکسٹنڈڈ فنڈز فیسیلیٹی قرض معاہدے کے وقت اس سہولت کو شامل کیا گیا تھا ۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام میں رہتے ہوئے سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر قرض رول اوور اور مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت حاصل کرنے کیلئے معاہدے کو جاری رکھا جائے ۔

پاکستان کی درخواست پر سعودی عرب کی جانب سے فوراً حامی نہیں بھری گئی اور تعاون کیلئے وقت مانگا گیا ہے ۔باوثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ جو وفد سعودی عرب میں سرمایہ کاری کیلئے بات چیت کر رہا تھا اس کی اہم میٹنگز کے دوران سعودی حکام کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے اور سرمایہ کاری کیلئے مختلف تجاویز بھی زیرغور ہیں۔ حکومت نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے مسلسل اقتصادی تعاون کی تعریف کی۔ سعودی عرب کی جانب سے ادارہ جاتی اصلاحات کے نفاذ میں حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کیلئے امکانات کا اعتراف کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع نے دنیا نیوز کے اس نمائندے کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے اگر ادھار تیل کی سہولت دوبارہ شروع ہو جاتی ہے تو رواں سال سعودی عرب سے پاکستان میں 1اعشاریہ 2 ارب ڈالر آئیں گے اور مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت فروری 2027 تک جاری رہے گی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں