وزیراعظم نے سول بیورو کریسی اصلاحات پلان کی منظوری دید ی

وزیراعظم نے سول بیورو کریسی اصلاحات پلان کی منظوری دید ی

گریڈ 17تا 22کے افسر وں کے اثاثوں کی نگرانی کیلئے کمیٹی بنانیکا فیصلہ کرپشن نشاندہی کیلئے رسک فیکٹر ماڈل تیار،مشکوک سرگرمیوں پرریڈلائن کیاجائیگا آمدن سے زائد اثاثوں پرافسران کیخلاف کارروائی کی جائیگی، سیل قائم کیا جا چکا ہے

 اسلام آباد (ایس ایم زمان)وزیراعظم شہباز شریف نے سول بیوروکریسی کے احتساب اور شفافیت کے لیے ادارہ جاتی احتساب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔کمیٹی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ایف بی آر، قومی احتساب بیورو، ایف آئی اے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لوگ شامل ہونگے ۔وزیراعظم نے سول اصلاحات پلان (Reform Action Plan) کی منظوری دیدی ، جس کے تحت گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے اثاثوں کی نگرانی اور ان کا جائزہ بھی لیا جائے گا ، مذکورہ اصلاحات پلان کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ قواعد میں ترمیم کی جائے گی، مذکورہ ترمیم کے تحت افسران کے اثاثوں کے ڈیکلریشن کو قانونی شکل دی جا سکے گی ، مذکورہ پلان کے مطابق سول بیوروکریسی میں کرپشن کی نشاندہی کے لئے ایک "رسک فیکٹر ماڈل" تیار کیا جائے گا ۔ ماڈل کے مطابق مشکوک سرگر میوں والے سول افسران کو ریڈ لائن کیا جائے گا اور ان افسران کی نگرانی کی جائے گی ،ایسے افسران جن کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں گے انکے خلاف تحقیقات کر کے کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ معاملہ کارر وائی کے لئے کس ادارے کو بھیجا جائے ۔ مذکورہ پلان کے لئے باقاعد ہ سیل قائم کیا جا چکا ، جس کے ماہانہ اجلاس میں اصلاحات کے عمل کی نگرانی کی جائے گی ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں