بلوچستان میں امن کیلئے سیاسی عمائدین کی کمیٹی بنانے کی تجویز

بلوچستان میں امن کیلئے سیاسی عمائدین کی کمیٹی بنانے کی تجویز

کمیٹی میں سابق وزیراعظم، صدر، فضل الرحمان اور اپوزیشن لیڈرز کی مشاورت شامل ہوگی پار لیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے ،اداروں سے خصوصی بریفنگ لینے کی تجاویز بھی شامل

اسلام آباد (سہیل خان)پارلیمنٹ میں بلوچستا ن میں امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ایوان بالا اور ایوان زیریں میں دونوں طرف سے سلگتے حالات پر بحث ہوئی اور سیاسی عمائدین نے مشترکہ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ صوبے میں جاری کشیدگی کو  کم کیا جا سکے ۔ کمیٹی میں سابق وزیراعظم نواز شریف، صدر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجہ ناصر عباس حافظ اور نعیم الرحمان شامل ہوں گے ۔ اپوزیشن لیڈرز عمران خان کی طرف سے بھی نمائندگی کریں گے ۔

تجاویز میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے ، اداروں سے خصوصی بریفنگ لینے اور پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی میں لائحہ عمل مرتب کرنے کی سفارشات شامل ہیں۔اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو بحالی اعتماد کے اقدامات کے لیے خط بھی بھیجا۔ سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے حکومت اور اپوزیشن کا مشترکہ پارلیمانی وفد اڈیالہ جیل بھجوا کر دیگر سیاسی قیدیوں کے حالات اور جیلوں میں دستیاب طبی سہولیات کا جائزہ لے گا۔ ارکان نے بلوچستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حقوق سے محروم عوامی مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت اجاگر کی۔ سانحہ گل پلازہ اور صوبے میں حملہ آوروں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور صوبائی حکومت کی کمزوری پر بھی ایوان میں بے چینی محسوس ہوئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں