بیوروکریسی اور کاروباری افراد کو اعتماد دیا :ڈپٹی چیئرمین نیب

 بیوروکریسی اور کاروباری افراد کو اعتماد دیا :ڈپٹی چیئرمین نیب

میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنی خامیاں دور کرنیکی کوشش کی:سہیل ناصر گزشتہ سال62 کھرب 13 ارب ریکوری ،29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی ہاؤسنگ سکیموں کے 1لاکھ 15ہزار متاثرین کو 180 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا 191 انکوائریز ، 65 تحقیقات مکمل، شفافیت کا نیا معیار قائم کیا :میڈیا کو بریفنگ

 اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) نیب نے 2025 میں62 کھرب 13 ارب کی ریکارڈ ریکوری کی ، میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیب نے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ وصولی کی ، اسی طرح 3برس میں نیب کی مجموعی ریکوری 11524 ارب روپے ہوگئی ۔ نیب نے 29 لاکھ 80 ہزار ا یکڑ سرکاری و جنگلا ت اراضی بھی واگزار کرا لی،واگزار کرائی گئی زمین کی مالیت 59 کھرب 80 ارب روپے ہے ، نیب حکام نے میڈیا بریفنگ بتایا کہ صرف ایک سال کی ریکارڈ ریکوری کو اگر ڈالرز میں دیکھا جائے تو یہ 22 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے ، گزشتہ 3 سالوں کی مجموعی ریکوری 11 ہزار 524 ارب روپے رہی، جو ڈالر میں تقریباً 41 ارب ڈالر بنتی ہے ۔ نیب نے جو ریکوریاں کی ان میں کچھ نقد ی ،زمینیں، پراپرٹیز، عمارتیں، گاڑیاں بھی شامل ہیں ۔ نیب سکھر نے 3 ہزار 730 ارب، نیب بلوچستان نے 1 ہزار 374 ارب اور نیب ملتان نے 653 ارب کی زمینیں واگزار کرائی ۔اسی طرح ہاؤسنگ سکیموں کے 1 لاکھ 15 ہزار متاثرین کو 180 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔

نیب کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.8 ارب روپے براہ راست متاثرین کے کھاتوں میں منتقل کئے گئے ۔ سٹیٹ لائف ہاؤسنگ کے متاثرین کو 72.23 ارب کے پلاٹس واپس دلائے گئے جبکہ ایڈن ہاؤسنگ، الباری گروپ اور AAA ایسوسی ایٹس کے متاثرین کو اربوں روپے کی واپسی کرائی گئی ۔ نیب نے سال کے دوران 191 انکوائریز ،65 اہم تحقیقات مکمل کیں ، آپریشنز ڈویژن کو 23 ہزار 411 شکایات موصول ہوئیں جبکہ غیر ضروری شکایات میں 24 فیصد کمی آئی ۔پبلک آفس ہولڈرز ،تاجروں کے خلاف شکایات میں 52 فیصد نمایاں کمی آئی ،عدالتوں میں نیب کے استغاثہ کی کامیابی کی شرح 72 فیصد تک پہنچ گئی ، عدالتوں میں 302 ریفرنسز زیر سماعت رہے ، جبکہ قانون میں تبدیلی کے بعد 246 ریفرنسز دیگر اداروں کو منتقل کئے گئے ۔ نیب حکام کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت 127 ارب کے اثاثوں پر مشتمل 39 ہائی پروفائل کیسز کا آغاز ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اندرونی احتساب کے تحت 13 انکوائریز مکمل کی گئیں اور جعل سازوں کا نیٹ ورک بے نقاب کیا گیا ،ڈی جی آپریشنز امجد اولکھ نے بتایا ہے کہ نیب میں ہنگامی بنیادوں پر 2022 کے بعد اصلاحات کی گئی ہیں ۔

شکایات کیلئے اب قومی شناختی کارڈ اور حلف نامہ ضروری ہے ۔سیاست دانوں کے خلاف شکایات کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلی کے سپیکرز کی زیر نگرانی سیل بنائے گئے ہیں ۔ بیوروکریسی کے حوالے سے شکایات کے لیے سیکرٹر ی اسٹیبلشمنٹ کی زیر نگرانی سیل بنایا گیا جبکہ کاروباری افراد کے خلاف شکایات سننے کے لئے چیمبر آف کامرس میں سیلز بنائے گئے ہیں ۔ اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے لئے اوورسیز فاؤنڈیشن میں ایک سیل قائم کیا گیا ۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز متعلقہ ا رکان سے مؤقف لے کر رپورٹ نیب کو بھیجتے ہیں ۔ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے بتایا ہے کہ نیب نے کچھ وقت کیلئے میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنی خامیاں دور کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے اس عرصے میں انسانی وقار کو بحال کرنے کی کوشش کی تاکہ جو بھی ملزم نیب میں پیش ہو اسے عزت اور پرائیویسی ملے اور شواہد کے بغیر لوگوں کا میڈیا ٹرائل نہ ہو ۔ ہم نے بیوروکریسی اور کاروباری افراد کو نیب کے حوالے سے اعتماد دیا ۔اس حوالے سے نیب میں ٹرانسپیرنسی سیل قائم کیا گیا ۔ کاروباری افراد کا اعتماد اس لئے بحال کیا گیا کیونکہ وہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیوروکریسی کو اعتماد اس لئے دیا گیا تاکہ ملکی معاملات بہتر انداز میں چل سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں