پاکستان ،قازقستان میں سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنیکا فیصلہ

پاکستان ،قازقستان  میں  سٹریٹجک  شراکت  داری  قائم  کرنیکا  فیصلہ

اقتصادی تعاون کے 5سالہ روڈ میپ پر اتفاق ،2سال میں تجارتی حجم 1ارب ڈالرکرنیکاعزم:اعلامیہ پاکستان قازقستان بزنس فورم کااہتمام37معاہدوں ،یادداشتوں پردستخط ،19دستاویزات کا تبادلہ

اسلام آباد(وقائع نگار،نامہ نگار) پاکستان اور قازقستان نے سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سیاسی مکالمے ، سلامتی و دفاع، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، تعلیم، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون سمیت اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ، دونوں ممالک نے آئندہ برسوں کے دوران دو طرفہ باہمی تجارت کا حجم ایک ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ وزارت خارجہ کی طرف سے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مابین تزویراتی شراکت داری کے حوالے سے جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے 3 تا 4 فروری کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ 23 سال بعد قازقستان کے صدر کا پاکستان کا سرکاری دورہ ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو دونوں ممالک کے روایتی دوستانہ تعلقات کی سٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے باب کا آغاز ہے ۔

دونوں رہنماں نے اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اور آزادی، خودمختاری، مساوات، علاقائی سالمیت اور عالمی طور پر قبول شدہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اصولوں کے احترام پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنا نہ صرف ان کی دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط اور وسعت دے گا بلکہ امن، سلامتی اور روابط میں بھی مثبت کردار ادا کرے گا ۔ دونوں رہنما ئوں نے نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ کی سطح پر ہر دو سال بعد سٹریٹجک مکالمے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دو طرفہ سٹریٹجک شراکت داری کے تحت متفقہ تعاون کے شعبوں کے جامع جائزے اور نفاذ کے لئے تعاون کے میکانزم کو مزید فروغ دیا جا سکے ۔ دونوں رہنما ئوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرحدی تحفظ کے حکام اور دیگر متعلقہ قومی اداروں کے درمیان باقاعدہ اور منظم روابط قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ، انسانی سمگلنگ سمیت غیر قانونی ہجرت، منظم و سائبر جرائم نیز نئے اور ابھرتے ہوئے خطرات اور چیلنجز کے خلاف قریبی تعاون کو فروغ دیا جا سکے ۔ صدر قاسم جومارت توکایووف نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو موزوں وقت پر قازقستان کے دورے کی دعوت دی، جسے وزیرِ اعظم نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا۔

قبل ازیں پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی،تعلیم،صحت ،کھیل، ریلوے ، ماحولیاتی تبدیلی اورمصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے 37 مفاہمتی یادداشتوں اورمعاہدوں پر دستخط کئے گئے ،اس سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس میں تقریب کا انعقاد ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں، ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے ، مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے ، مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاس ہیں، سٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،دونوں ممالک غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں ، دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن اورخوشحالی آئے جبکہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست او ر سٹریٹجک شراکت دار ہے ، دونو ں ممالک کے درمیان تجارت و معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔

ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھیں گے ،خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے ، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستانی سرمایہ کاروں کوکاروبار کیلئے پرکشش مواقع فراہم کریں گے ۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے دونوں ملکوں کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کے قیام کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے مجموعی طور پر 37مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کئے گئے اور 19 دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔دوسری طرف پاکستان قازقستان بزنس فورم کا اہتمام کیاگیا ،جس میں قازقستان کی 50 سے زائد اور پاکستان کی 250 کے قریب کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔شہباز شریف اور قازقستان کے صدر کی وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات بھی ہوئی ۔

پاکستان اور قازقستان نے باہمی اقتصادی تعلقات اور تجارتی حجم کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر زور دیا ہے اور تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے 5 سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع سے استفادہ کرنے ، ریل اور روڈ رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے 37 سمجھوتے دوطرفہ تعاون میں سنگ میل ثابت ہوں گے جبکہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے دوطرفہ تعلقات کو تزویراتی شراکت داری میں بدلنے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قازقستان، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ٹرانسپورٹ کوریڈور انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، پاکستان اور قازقستان علاقائی اور عالمی رابطے کا اہم ذریعہ ہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں