پاکستان بورڈ آف پیس سے اپنی شمولیت فوری واپس لے:تحریک تحفظ آئین
اہم ایک ایسی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں جو مغرب کی پراکسی بننے سے اجتناب کرے :کانفرنس کا اعلامیہ سرائیل رقبہ بڑھاتا نہیں تو زندہ نہیں رہ سکتا:ناصر عباس ،امریکا سے تعلقات میں ملکی مفادات کو پش پشت ڈال دیا:محمد زبیر
لاہور(کورٹ رپورٹر )تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو نام نہاد \"بورڈ آف پیس\"سے اپنی شمولیت فوری واپس لینی چاہیے ،حکومت پاکستان کو امریکی سامراج اور ٹرمپ حکومت کے تناظر میں اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی حمایت کے لیے پارلیمان قومی اور جمہوری سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کو بحث کا حصہ بنائے ۔ لاہور ہائیکورٹ میں غزہ معاہدے سے متعلق کانفرنس ہوئی جس میں مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی ۔کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کو گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر مشتمل ایک ایسے بلاک کی تشکیل کی حمایت کرنی چاہیے جو عالمی سطح پر فلسطین کے لیے آزادی اور انصاف کے مقدمے کی قیادت کرے ۔ایک ایسی خارجہ پالیسی بنائی جائے جو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہو ۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں اور سامراجی طاقتوں کی جانب سے خود مختار ممالک کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں ہم ایک ایسی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں جو علاقائی امن سے وابستہ ہو اور مغرب کی پراکسی بننے سے اجتناب کرے ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سینٹ سینیٹر راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا مشرق وسطی ٰاس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔اگر اسرائیل اپنے آپ کو بڑھاتا نہیں ہے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا رقبہ دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ راولپنڈی ڈویژن اس سے بڑا ہے ۔گریٹر اسرائیل اس لیے بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایشیا کے ہاٹ پوائنٹس کو حاصل کر لیں ۔عمران خان کی حکومت کو گرانا اسی منصوبے کا حصہ ہے ۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکا پاکستان کا بہت زبردست دوست بن گیا ہے کہا جاتا ہے ملک میں جو ہو رہا ہے اس کو بھول جائیں، کہتے ہیں دیکھیں ٹرمپ کے ساتھ ہمارا کیسا تعلق ہے آپ یہ سمجھ لیں یہ پاکستان اور امریکا کا تعلق نہیں یہ امریکا اور فرد کا تعلق ہے جس میں پاکستان کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ہٹلر سے زیادہ خطرناک ہے ۔ ٹیرف کم کروا کر معیشت تو بہتر نہیں ہوئی۔بورڈ آف پیس بغیر کسی شرط کے منظور کر لیا کابینہ میں بھی نہیں پیش کیا ۔ہم بورڈ آف پیس کو مسترد کرتے ہیں اسرائیل نے دو سال تک فلسطین کے ساتھ ظلم کیا اور ٹرمپ نے ساتھ دیا،ہم ٹرمپ کونوبل پیس ایوارڈ دے رہے ہیں۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ حقوق خلق پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مشکور ہیں کہ انہوں نے غزہ پر بات کی، کراچی گل پلازہ کے پاس کھڑا تھا جہاں لوگوں کی چیخوں کی آواز آ رہی تھی۔دو دن پہلے تیراہ میں تھا جہاں شدید برف میں لوگوں کو ریاست نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے ۔ بشریٰ بی بی ، ایمان مزاری ، علی چٹھہ اور علی وزیر جیل میں ہیں انہوں نے کہا آج اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں جاوید ہاشمی اور اس کے داماد پر پرچہ کرتا کہ تم چھوٹی چھوٹی چوریاں کیوں کرتے ہو بڑی چوریاں کرو۔ ہم بورڈ آف پیس کو نہیں مانتے ۔ان کو شرم کرنی چاہیے جب فلسطین بلا رہا تھا یہ نہیں گئے یہ ٹرمپ کے بلانے پر بھاگے بھاگے گئے ۔