بھارت کو شکست :یوم یکجہتی کشمیر پر زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا
انسانی حقوق کا بیانیہ عالمی اداروں کے سامنے پیش کرنا اور بھارت پر دباؤ ڈالنا ہو گا
(تجزیہ:سلمان غنی)
ماضی کی نسبت اس سال یومِ یکجہتیٔ کشمیر پر زیادہ جوش، ولولہ، اتحاد اور اعتماد دیکھنے کو ملا، جس کی وجہ دس مئی کو پاک فوج کے ہاتھوں بھارت کو ہونے والی شرمناک شکست بتائی جا رہی ہے ۔ کشمیر کے حوالے سے ہونے والی تمام ریلیوں، جلسوں، جلوسوں اور تقریبات میں مقررین دس مئی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتے نظر آئے کہ بھارت کو ہونے والی شکست کے بعد خطے کے حالات بدل چکے ہیں۔ آج بھارت اس شکست کے بعد نفسیاتی کیفیت سے نہیں نکل پایا، اور یہی وقت ہے کہ پاکستانی قیادت پاکستان کو ملنے والے نئے مقام کو کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور کشمیر کی آزادی کے لیے بروئے کار لائے اور دنیا کو بتائے کہ کشمیر ایک عالمی ایشو ہے ، جس کے پیچھے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ یہ بھی واضح کیا جائے کہ پاکستان اس مسئلے کا بنیادی فریق اور وکیل ہے اور وہ کشمیر کاز کے حل کے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا۔
لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر قومی جذبات میں شدت کیوں تھی؟ ۔پورے ملک میں سیاسی لیڈر شپ، مختلف جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کیلئے ریلیوں کا انعقاد قومی جذبات اور احساسات کا مظہر ہے کہ پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کو بھلانے کو تیار نہیں، اور کشمیریوں سے یکجہتی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بلا شبہ آج پاکستان کی بیرونی محاذ پر پذیرائی بڑھی ہے ۔ دنیا اسلام آباد کی اہمیت کو سمجھتی ہے ، دنیا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ کشمیر خطے کا سلگتا ہوا ایشو ہے ، اور اس مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں امن و استحکام ممکن نہیں۔ اس کے لیے دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، کیونکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔
اب تک اگر دنیا کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو دنیا نے بھارت پر عملاً دباؤ نہیں ڈالا، لہٰذا دنیا کو آگے آنا ہو گا۔دوسری جانب پاکستان کو اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے بھرپور کوشش کرنا ہو گی۔ انسانی حقوق کا بیانیہ عالمی اداروں کے سامنے پیش کرنا ہو گا، سفارتی بلاکس بنا کر بھارت پر دباؤ ڈالنا ہو گا۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کا بنیادی تقاضا بھی یہی ہے کہ دنیا کو جھنجوڑا جائے اور کشمیر کو جیو پالیٹکس سے جوڑا جائے ۔اسی کے ساتھ کشمیر کاز کی نتیجہ خیزی کیلئے اندرونی استحکام کو یقینی بنانا ہو گا۔ کمزور داخلی محاذ عالمی سطح پر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا۔ پاکستان اندر سے مضبوط ہو گا تو دنیا اس کی بات سنے گی۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج کے حالات میں پاکستان کو ایک ایج حاصل ہے ، بھارت کیخلاف اس کا فائدہ اٹھایا جائے ، کشمیر کی آزادی بھارت کو ہمیشہ کیلئے دفاعی محاذ پر لے آئے گی، اور پاکستان کی معاشی مضبوطی بھی یقینی بنے گی۔