پی ٹی آئی سنگجانی میں مذاکرات پر متفق ہوکر پیچھے ہٹی:رانا ثنا اللہ
گنڈاپور نے محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر کرتے الفاظ کا چناؤ درست نہیں کیا چیئرمین بن جانا لیڈر شپ نہیں ، لیڈر وہ ہے جو صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرے
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا کہ 26 نومبر 2024 کے پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کو آفر کی گئی تھی کہ وہ سنگجانی میں بیٹھے ، حکومت اس کے ساتھ وہاں مذاکرات کرے گی، پھر پی ٹی آئی یا عمران خان اس بات سے پیچھے ہٹ گئے ، یعنی عمران خان نے کہا کہ انہوں نے جیل سے باہر نہیں آنا۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ کا چناؤ درست نہیں کیا، جب پی ٹی آئی کا 26 نومبر 2024 کا دھرنا ہورہا تھا تو اس وقت پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے نے واپڈا دفاتر پر حملے کر دئیے ، اس نے وہاں پر عملے کو مارا بھی اور خود ہی بجلی چلادی، اس واقعہ پر فیڈرل لیول پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس پر کارروائی کی جائے اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے محسن نقوی سے بات کی اور پھر محسن نقوی کے کہنے پر کارروائی نہیں ہوئی اور لوگوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، اس کے بعد ان کو کہا گیا تھا کہ آپ ڈی چوک نہ جائیں، آپ سنگجانی چلے جائیں، آپ وہاں پر بیٹھ جائیں تو آپ کے ساتھ وہاں بات کی جائے گی، وہ ایک سنجیدہ کوشش تھی اور اس کوشش میں ہم بھی شامل تھے ، پی ٹی آئی کی قیادت بھی اس بات پر متفق تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھی کوشش تھی جس میں محسن نقوی نے کردار ادا کیا، اگر اس بات کو آگے بڑھایا جاتا تو معاملات آگے بڑھ جاتے ، باتیں ہوتی ہیں کہ رات کو کیسے گیٹ کھلا، وغیرہ وغیرہ، یہ سارا کچھ ہوا تھا، پھر پی ٹی آئی یا عمران خان اس بات سے پیچھے ہٹ گئے ، یعنی عمران خان نے کہا کہ انہوں نے جیل سے باہر نہیں آنا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ لیڈر شپ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک جماعت کا چیئرمین بن گیا تو وہ لیڈر ہے بلکہ لیڈر وہ ہے جو صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرے ، پی ٹی آئی کو اس وقت صحیح فیصلہ کرنا چاہیے تھا، عمران خان کو غلط بتایا جا رہا تھا کہ پورا ملک ان کے لیے سڑکوں پر نکل رہا ہے ، عوام اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کے لیے تیار ہیں، دوسری طرف ان کو مشورہ دیا جا رہا تھا جس میں محسن نقوی شامل تھے کہ آپ ایسا نہ کریں، محسن نقوی نے انہیں کہا کہ آپ سنگجانی بیٹھیں، جہاں پہ ہم آپ سے بات کریں، ڈی چوک نہ جائیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پہلے اس بات سے اتفاق کیا تاہم بعد میں اپنی بات سے مکر گئے کہ فیصلہ بشریٰ بی بی کریں گی۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا سہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ کی باتیں کرینگے تو عمران خان کی رمضان میں ملاقاتیں بھی بند ہوجائیں گی، بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن جیل میں اے ون ہے ، ان کا علاج بھی بہترین ہوا ہے ۔