قومی کمیشن اقلیتی حقوق کے چیئرمین،ارکان کاتقرر نہ ہو سکا

قومی کمیشن اقلیتی حقوق کے چیئرمین،ارکان کاتقرر نہ ہو سکا

ایوان سے منظور قانون کے مطابق ساٹھ دنوں کے اندر کمیشن کے چیئرمین کا انتخاب ہونا تھا ہم کمیشن کی تشکیل میں مصروف، صرف سندھ کی رائے آنا باقی ، پی پی ممبر نوید عامر جیوا

 اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)قانون بننے کے باوجود قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے چیئرمین اور دیگر ارکان کی تقرری نہ ہو سکی۔ ایوان سے منظور شدہ قانون کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ کی مشاورت سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینی تھی جس میں دو قومی اسمبلی کے ممبران اور دو سینیٹ کے ممبران شامل ہوں، قانون میں بتایا گیا کہ غیر مسلم ممبران کو ہی ترجیح دی جائے تو بہتر ہے ۔ ساٹھ دنوں کے اندر اس کمیٹی نے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے چیئرمین کو منتخب کرنا تھا۔ اس بابت وزارتِ انسانی حقوق نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو 26 دسمبر 2025 کو خط لکھا تھا کہ کمیشن کے چیئرمین کا تعین کیا جائے اور اس کے لیے جلد اقدامات مکمل کیے جائیں تاکہ کمیشن تشکیل پا سکے لیکن اب تک اس کمیشن کا چیئرمین نامزد نہیں ہو سکا۔

اسی طرح کمیشن میں ایک غیر مسلم ممبر وفاقی دارالحکومت سے ہوگا، اس کے لیے وزارتِ انسانی حقوق نے چیف کمشنر اسلام آباد کے نام 26 دسمبر 2025 کو خط لکھا ہے ۔ کمیشن میں تمام صوبوں سے دو دو اقلیتی ممبران کا ہونا لازمی ہے جس کے لیے وزارتِ انسانی حقوق نے صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو خطوط لکھے ہیں۔ وزارت کی جانب سے 26 دسمبر 2025 کو جو یہ تمام خطوط لکھے گئے تھے ، ان پر ‘موسٹ امیجیٹ’ کی نشاندہی بھی موجود تھی۔ اس تمام تر صورتحال پر پیپلز پارٹی کے ممبر نوید عامر جیوا نے بتایا کہ ابھی کچھ صوبوں نے اپنی رائے دی ہے ، تاہم کچھ صوبوں کی رائے باقی ہے ، جس کے بعد ہی اس کمیشن کی تشکیل کا یہ عمل مکمل کیا جا سکے گا۔ وزرات انسانی حقوق کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو وزارت نے بتایا کہ صرف سندھ کی رائے آنا باقی ہے اور ہم اس کی تشکیل میں مصروف عمل ہیں۔ تاہم اب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوا اور منظور شدہ قانون کے مطابق 60 دنوں کے اندر کمیشن کے چیئرمین کا انتخاب اور اس کے بعد دیگر ممبران کا انتخاب ہونا لازمی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں