پاک افغان رابطوں کی بحالی کسی بڑے ضامن سے مشروط
دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس ،افغان انتظامیہ کے رابطے پر دوٹوک موقف
تجزیہ: سلمان غنی
وزیراعظم شہباز شریف امریکا سے واپسی پر لندن اور اب لندن سے قطر پہنچ چکے ہیں، افغانستان کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں اس دورے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ قطر ہی تھا جہاں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نتیجہ میں افغانستان میں طالبان کو حکومتی نظم و نسق ملا تھا ۔ اب بھی طالبان تک رسائی میں قطر کے کردار کا ذکر ہوتا ہے اور قطر افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعہ حل یقینی بنانے پر زور دیتا رہا ہے لہٰذا نئی پیدا شدہ صورتحال میں پاکستان قطر کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھتا ہے کیونکہ پاکستان کے لئے اب افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا عمل سکیورٹی رسک بن چکا ہے ۔ پاکستان کی ریاست اور حکومت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ دہشت گرد خواہ کوئی ہو، کہیں بھی ہو، اسے انجام تک پہنچانا ضروری ہے ۔
قطر پر اسرائیل کا حملہ ہو یا دیگر معاملات پاکستان نے ہمیشہ قطر کا واضح دو ٹوک اور پرخلوص ساتھ دیا ہے ،اسرائیلی حملے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی بنیادوں پر دوحا پہنچ کر امیر قطر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم غیر مشروط طور پر آپ کے ساتھ ہیں ،لہٰذا اب دیکھنا ہوگا کہ قطر دہشت گردی کے مذموم عمل کے خلاف پاکستان کا کس حد تک ساتھ دیتا ہے ۔ویسے بھی دوحا معاہدے میں طالبان نے امریکا سمیت عالمی طاقتوں کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی ۔ طالبان افغان سرزمین کو بھی دہشت گردی سے پاک کریں گے ۔ مذکورہ معاہدے کی خلاف ورزی کا عمل طالبان انتظامیہ کے وہاں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہی شروع ہو گیا تھا ، خصوصاً دہشتگردوں کا ٹارگٹ پاکستان اور پاکستان کی فورسز رہیں ۔
مذکورہ دہشت گردی کے عمل پر پاکستان نے جب بھی دہشت گردوں کے اڈوں کو نشانہ بنایا تو بعض دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب قطر اور ترکیہ نے اس پر زور دیا کہ بیٹھ کر معاملات کو طے کیا جائے ،تاہم قطر اور ترکیہ کی کوششوں سے ترکیہ میں ہونے والے مذاکراتی عمل نتیجہ خیز نہیں ہوئے کیونکہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر کوئی تحریری یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھے ۔جس پر پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر دئیے ہیں ، پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی سے طالبان کے ہاتھ پاؤں پھولے نظر آ رہے ہیں،اطلاعات تو یہ ہیں کہ پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے اڈوں کو ٹارگٹ کرنے کے عمل پر دوست ممالک کو اعتماد میں لے رکھا تھا لیکن پاکستان نے پھر سے ضرورت محسوس کی کہ قطر کو اس ضمن میں خصوصی طور پر اعتماد میں لیا جائے اور قطر کے ذریعے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جائے کیونکہ قطر اہم سفارتی مرکز بن چکا ہے ۔
اگر قطر کے اثر و رسوخ کے باعث طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو نئی پیدا شدہ صورتحال میں بھی اس کا کردار طالبان انتظامیہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔دوسری جانب خبریں ہیں کہ افغان انتظامیہ نے ایئر سٹرائیکس کے بعد پاکستان سے رابطہ کیا ہے لیکن پاکستان نے انہیں اپنے دو ٹوک موقف سے آگاہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ہم زیرو ٹالرنس پالیسی پر قائم ہیں، دہشت گردی کے خاتمے تک تجارت بند رہے گی پاکستان کی جانب سے آنے والا یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان افغان انتظامیہ اس کے طرز عمل و طریقہ کار سے سخت مایوس ہے اور اس کے ساتھ رابطوں کی بحالی کا عمل بھی کسی بڑے ضامن اور دہشتگردوں کے خلاف اس کے آپریشن سے ہی مشروط ہوگا۔