فائر وال بندش کے متضاد دعوے، معاملہ سینیٹ پہنچ گیا، وزارت آئی ٹی خاموش
سسٹم فعال ہے :ٹیلی کام آپریٹرز، ایک بٹن یا حکم سے بندش ناممکن:آئی ٹی ماہرین، ہم صرف ریگولیٹر :پی ٹی اے فوری وضاحت نہ ہونے پر سینیٹ میں اظہار تشویش، فائر وال پر 40نہیں 12ارب لگے :ذرائع وزارت آئی ٹی
اسلام آباد(حریم جدون) ملک میں سوشل میڈیا پر کنٹرول کیلئے فائر وال کی تنصیب کا تنازع ابھی سمٹا نہیں تھا کہ اربوں روپے کی لاگت کے اس منصوبے کو بند کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ مختلف حلقوں سے فائر وال کی بندش کے دعوے سامنے آرہے ہیں تاہم اصل صورتحال کیا ہے ، حکومت اس نظام کی تنصیب کی طرح اس کی بندش کے دعوئوں پر بھی کھل کر سامنے نہیں آرہی۔ اس صورتحال نے سوشل میڈیا صارفین کو انتہائی الجھن میں ڈال دیا ہے جبکہ یہ معاملہ پارلیمانی ایوانوں میں بھی پہنچ گیا ہے ۔ملک میں گزشتہ چند روز سے فائر وال کی مبینہ بندش کی اطلاعات آ رہی ہیں تاہم متعلقہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ۔
اگرچہ وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کے حکام آف دی ریکارڈ فائر وال کی بندش کی نفی کررہے ہیں جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز اور آئی ٹی ماہرین بھی فائر وال کے بدستور فعال رہنے کی تصدیق کررہے ہیں تاہم اس قضیے کے خاتمے کیلئے باضابطہ حکومتی موقف ناگزیر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا گیا اور اس پر حکومتی وضاحت کا مطالبہ سامنے آیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فائر وال پر تقریباً 40 ارب روپے خرچ کئے گئے تھے ۔ اگر واقعی فائر وال ہٹا دی گئی ہے تو اس بارے میں پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے واضح اور فوری وضاحت نہ آنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔آئی ٹی ماہر اسد بیگ کا کہنا ہے کہ فائر وال ایک مربوط اور کثیر سطح کا ایک سکیورٹی نظام ہے جسے مرحلہ وار نافذ کیا گیا تھا، اس لئے اسے کسی ایک حکم یا بٹن کے ذریعے فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔
حکام کے مطابق اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی پالیسی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس پر عملدرآمد بھی مرحلہ وار اور تکنیکی طریقہ کار کے تحت ہی ہوگا۔پی ٹی اے حکام نے بھی اس تاثر کی تردید کی کہ فائر وال کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق یہ نظام بدستور فعال ہے اور اس کا فائیو جی کی نیلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اور نیٹ ورک سکیورٹی کے معاملات الگ نوعیت کے ہیں اور دونوں کو آپس میں جوڑنا درست نہیں۔پی ٹی اے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ فائر وال کے معاملے میں ریگولیٹر کا براہ راست کوئی کردار نہیں۔ فائر وال کا اقدام وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق اتھارٹی کا ویب مینجمنٹ سسٹم تقریباً دو دہائیوں سے فعال ہے جس کا مقصد گرے ٹریفک کو کنٹرول کرنا اور غیر اخلاقی یا غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنا ہے ۔ٹیلی کام آپریٹرز نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے نیٹ ورکس پر فائر وال کا نظام کام کر رہا ہے اور اسے بند نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی بیشی کو محض فائر وال سے منسوب کرنا تکنیکی طور پر درست تجزیہ نہیں کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ، نیٹ ورک ٹریفک اور دیگر تکنیکی عوامل بھی رفتار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔وزارت آئی ٹی کے ذرائع نے بھی غیر سرکاری طور پر کہا کہ فائر وال فعال ہے ۔ ذرائع نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ فائر وال پر 40 ارب کی لاگت کا تاثر درست نہیں۔ اس منصوبے پر 10 سے 12 ارب روپے خرچ ہوئے تھے ۔
آئی ٹی کے ماہرین کے مطابق فائر وال بنیادی طور پر ایک گیٹ وے کیپر کے طور پر کام کرتی ہے جو ملکی نیٹ ورک میں داخل اور خارج ہونے والے ڈیٹا کی نگرانی اور فلٹرنگ کرتی ہے ۔ اس کا مقصد مشکوک یا نقصان دہ ٹریفک کو روکنا، سائبر حملوں سے تحفظ فراہم کرنا اور حساس معلومات کی سلامتی یقینی بنانا ہے ۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے حفاظتی نظام کو بغیر متبادل انتظامات کے ہٹانا سائبر سکیورٹی کیلئے خطرات کو بڑھا سکتا ہے ۔بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر فائر وال کے نظام میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات انٹرنیٹ کی کارکردگی پر مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم یہ ایک پالیسی اور تکنیکی نوعیت کا فیصلہ ہوگا جس کا فوری اطلاق ممکن نہیں۔اس معاملے پر وزارت آئی ٹی آئی کے سیکرٹری سے بارہا رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی موقف نہیں دیا گیا اور ان کے عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ اس موضوع پر وفاقی وزیر آئی ٹی ہی موقف دیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔