غلط تقرر انتظامی کارروائیوں سے درست نہیں ہو سکتا:عدالت

غلط تقرر انتظامی کارروائیوں  سے درست نہیں ہو سکتا:عدالت

اسلام آباد (دنیا نیوز، آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ عدالتیں ججوں کی سہولت کیلئے نہیں بلکہ معاشرے اور سائلین کے فائدے کیلئے بنائی گئی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تقرری غیر قانونی اور آئین کے خلاف قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا اور کہا عدلیہ میں شفاف اور قانونی تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزو ہے ۔ غیر قانونی منصب پر تعینات جج پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور کرتا اور سائلین کا اعتماد مجروح کرتا ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق کسی بھی بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں ہو سکتی اور وکیل کا لائسنس بھی بنیادی تعلیمی نقص دور نہیں کر سکتا۔ درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ رکھنے والے شخص کی تقرری ابتدا سے باطل ہوگی اور غلط تقرری کو بعد میں کی گئی انتظامی کارروائیوں سے درست نہیں کیا جا سکتا ۔ عدالت نے عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنے والا شخص ہی سنبھال سکتا کے اصول پر زور دیا۔ اس فیصلے کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری کی بطور جج تقرری کالعدم قرار دی گئی اور فوری ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ عدالت نے آئینی معیارات کا نفاذ عدلیہ کی آزادی اور ساکھ کے تحفظ کیلئے لازمی قرار دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں