مستقل تقرریاں کیوں نہیں ، یہ سیاسی انتقام:جسٹس محسن

مستقل تقرریاں کیوں نہیں ، یہ سیاسی انتقام:جسٹس محسن

پانچ دس سال بعد 30دن کے نوٹس پر فارغ، نئی بھرتیوں کا مطلب اپنے بندے موجودہ دور میں بیروزگار کرنے سے بڑا ظلم نہیں:ریمارکس، کیس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ مستقل تقرریاں کیوں نہیں کر رہے ، یہ ایک  سیاسی انتقام ہے ، حکومت کیوں بار بار کنٹریکٹ پر بھرتی کر رہی، 402 پوسٹوں پر نئے افراد کی بھرتی کا مطلب اب جو رجیم ہے یہ اپنے بندے رکھیں گے ، ایک بندے کو نوکری پر رکھتے ہیں پانچ دس سال بعد تیس دن کے نوٹس پر فارغ کردیا جاتا ہے ، اگر بھرتی کر رہے اور کنٹرکٹ پر رکھ کر کام کروا رہے اور تجربہ بھی ہو رہا تو مستقل کیوں نہیں کررہے ،قانون نہیں بنا رہے ، ہر کیس میں عدالتی حکم کے بعد آٹھ دس ماہ میں رولز بنتے ہیں، پورے سسٹم میں عدالت پر بوجھ ڈالتے جاتے ہیں، عام شہری پس رہے ، ان کا کیا قصور ہے۔

درخواستگزار وکیل نے کہا این سی سی آئی اے کو میٹنگ کرنے اور رولز بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہاکہ این سی سی آئی اے نے ڈرافٹ کرکے دینا ہے کام کر رہے ہیں۔ یہ ملازمین آج بھی کام کررہے اور تنخواہ بھی مل رہی ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ایم ایس سی لڑکا یا لڑکی سب انسپکٹر رکھا، سات آٹھ سال نوکری کے بعد نکال کر نیا بندہ رکھیں گے ، آج کے دور میں کسی کو بیروزگار کرنے سے بڑا ظلم ہی کوئی نہیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا رولز نہیں ان کو کیسے مستقل کرسکتے ہیں، وقت دیاجائے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہم کہیں کہ یہ حکومت کی غلطی ہے ، پچھلے فیصلے پرعملدرآمدنہیں کیا اور مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ جسٹس محسن اختر نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ ملازمین آج یہاں کیوں ہیں آفس نہیں گئے ۔ وکیل نے کہا یہ سماعت سننا چاہتے تھے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے یعنی ان کی بد دعائیں بھی میرے کھاتے میں ہوں گی، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں