عمران اور بشری بی بی کی8مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور

عمران اور بشری بی بی کی8مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری  منظور

بانی پی ٹی آئی کو 6اوراہلیہ کو 2مقدمات میں ریلیف ملا ، 50،50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم توشہ خانہ رسیدوں پرعدالتی سوالات، رسید ریکور نہیں ہوئی ، جعلی رسیدیں میڈیا پر دکھائی گئیں :پراسیکیوشن

اسلام آباد (رضوان قاضی،اپنے نامہ نگارسے) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی6جبکہ انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کی2مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لیں۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کے ایک کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔ پراسیکیوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم پیش ہوئے جبکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دئیے اورمؤقف اختیار کیا کہ ان کے اور عدالت کے کیریئر میں ایسی ضمانت کی درخواستیں پہلی بار ہیں جن میں اتنی تاخیر ہوئی۔

ریاست کا طرزِ عمل سوالیہ نشان ہے ، اس کیس میں 63 التوا د ئیے گئے ، 30 مواقع پر عدالت نے جیل حکام کو پیش کرنے کا حکم دیا مگر پیش نہیں کیا گیا، جبکہ پانچ مرتبہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے ۔ ضمانت طبی نہیں بلکہ میرٹ پر مانگ رہے ہیں، 9 مئی کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی کبھی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد نہیں ہوئی، کچھ کیسز سرکار ڈرانے کیلئے بناتی ہے جس میں فرد جرم کبھی عائد نہیں ہوئی،وکیل کے مطابق 5 اگست 2023 کو بانی پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کیس میں گرفتار ہوئے ، اڑھائی سال تک ان مقدمات میں گرفتاری کی ضرورت ظاہر نہیں کی گئی، نہ تفتیش مکمل ہوئی اور نہ چالان جمع کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2023 کے مقدمات میں 2026 آ چکا ہے ، عدالت پولیس ڈائری چیک کر لے کہ کب شاملِ تفتیش کیا گیا، انصاف تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔پراسیکیوشن نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور وہ ضمانت کے حقدار نہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا توشہ خانہ کی رسید ریکور کی گئی؟۔ پراسیکیوشن نے بتایا کہ رسید ریکور نہیں ہوئی اور جعلی رسیدیں میڈیا پر دکھائی جاتی رہیں۔ جج محمد افضل مجوکہ نے سوال کیا کہ اگر میڈیا پر دکھائی گئیں تو کیا ان کا فرانزک کروایا گیا؟۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے پچاس، پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، آزادی مارچ، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور توشہ خانہ جعلی رسیدوں کے مقدمات درج ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ جعلی رسیدوں کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے ۔

ادھر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عامر ضیاء کی عدالت نے 26 نومبر پی ٹی آئی احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی اور تھانہ رمنا کے مقدمے میں بھی پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کرنے کا حکم سنا دیا۔دوسری طرف اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقات کرا دی گئی۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کی فیملی سے ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی۔ ملاقات کرنے والوں میں ان کی بھابی اور بھتیجا شامل تھا۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت نے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر حتمی دلائل طلب کرلیے ۔گزشتہ روز سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی بخاری جبکہ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔کیس کی مزید سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں