آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات کل ، بیشتر اہداف حاصل
معاشی نمو، سرمایہ کاری، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، پاور ٹیرف میں کمی کی ورکنگ تیار 1.2 ارب ڈالر کے حصول کے لیے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کاامکان
اسلام آباد (مدثر علی رانا) 1.2 ارب ڈالر کے حصول کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے تحت مذاکرات کل شروع ہوں گے ۔ آئی ایم ایف وفد آج پاکستان پہنچے گا۔ آئی ایم ایف مشن 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔ پاکستان نے بیشتر اہداف حاصل کر لیے ہیں اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی توقع ہے ۔ مذاکرات ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت دوسرے جائزے پر ہوں گے ۔ کامیاب مذاکرات کی صورت میں پاکستان کو 1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور تقریباً 20 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت موصول ہو سکیں گے ۔مذاکرات میں بجٹ اہداف، معاشی کارکردگی، ادارہ جاتی اصلاحات، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں، کرپشن اینڈ گورننس ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ، سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات اور نیشنل فسکل پیکٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ سپر ٹیکس کی شرح بتدریج کم کر کے 5 فیصد کرنے اور پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال اسے ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئے گی۔ انڈسٹریل پالیسی کی حتمی منظوری بھی آئی ایم ایف سے مشروط ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے بیشتر اہداف حاصل کر لیے ہیں اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی توقع ہے ۔
وفد پہلے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے زرمبادلہ ذخائر، پالیسی ریٹ، اینٹی منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ اقدامات پر تکنیکی بریفنگ لے گا۔ بعد ازاں اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں معاشی ٹیم سے مذاکرات ہوں گے ۔دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا جبکہ مجموعی آمدن 10 ہزار 683 ارب روپے رہی۔ اسی عرصے میں سود کی ادائیگیوں پر 3 ہزار 563 ارب روپے خرچ ہوئے ۔ حکومت نے 34 ارب روپے بیرونی اور 575 ارب روپے مقامی ذرائع سے قرض لیا۔ پنشن پر 504 ارب، سول اخراجات پر 380 ارب اور سبسڈی کی مد میں 462 ارب روپے خرچ کیے گئے ۔ پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی سے 822 ارب، سی پی پی لیوی سے 8.8 ارب اور کاربن لیوی سے 25 ارب روپے وصول ہوئے ۔ سٹیٹ بینک نے 2 ہزار 428 ارب روپے منافع حکومت کو منتقل کیا جبکہ صوبوں کو 3 ہزار 616 ارب روپے جاری کیے گئے ۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور ایم ڈی آئی ایم ایف کی ملاقات میں زیر غور ریلیف تجاویز پر اب حتمی بات چیت ہوگی۔
حکومت معاشی نمو، سرمایہ کاری، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، پاور ٹیرف میں کمی اور ٹیکس مراعات کے لیے پروگرام سٹرکچر میں ممکنہ تبدیلیوں پر ورکنگ تیار کر چکی ہے ۔رواں مالی سال سود کی ادائیگیوں کا تخمینہ 7 ہزار 500 سے 7 ہزار 700 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ 500 سے 600 ارب روپے کی بچت متوقع ہے ۔ آئندہ مالی سال میں پرائمری بیلنس اور صوبائی سرپلس اہداف میں نرمی اور مالیاتی خسارے کے ہدف میں ردوبدل پر بھی مشاورت ہوگی تاکہ پروگرام کے آخری سال میں کچھ ریلیف حاصل کیا جا سکے ۔حکومت تیسرے سال میں معیشت کو فروغ دے کر آئندہ دو برسوں میں 5 سے 6 فیصد شرح نمو حاصل کرنے کی خواہاں ہے ۔ ایکسپورٹ لیڈ گروتھ، سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور غربت میں کمی حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔ پاور ٹیرف میں کمی اور انڈسٹری کے لیے مسابقتی ماحول کی فراہمی پر بھی غور جاری ہے ۔ نئی صنعتی پالیسی کے تحت مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس چار برس میں کم کر کے 5 فیصد کرنے اور پانچویں سال ختم کرنے کی تجویز آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے ۔