دفاتر میں 3 ہفتہ وار چھٹیاں، نصف سٹاف کا گھر سے کام، سکول بند : پٹرول مزید مہنگا ہونے والا کوشش ہوگی عوام پر بوجھ نہ پڑے : وزیر اعظم

دفاتر میں 3 ہفتہ وار چھٹیاں، نصف سٹاف کا گھر سے کام، سکول بند : پٹرول مزید مہنگا ہونے والا کوشش ہوگی عوام پر بوجھ نہ پڑے : وزیر اعظم

وفاقی کابینہ 2ماہ تنخواہ نہیں لے گی، ارکان پارلیمنٹ کی 25فیصد، افسروں کی2دن کی کٹوتی،بیرونی دوروں پر پابندی،پٹرول آدھا،غیرضروری خریداری، 60فیصد گاڑیاں بند،تعلیمی ادارے دوہفتوں کیلئے بند،یونیورسٹیز وکالجز میں آن لائن کلاسز،اشرافیہ قوم کا ساتھ دے :شہبازشریف پنجاب کابینہ کا فیول بحران خاتمے تک بند،پروٹوکول گاڑیوں ،غیر ضروری تقریبات،کھانوں پر پابندی،تعلیمی اداروں میں امتحانات کا شیڈول برقرار ،ہارس اینڈ کیٹل شو ملتوی،دیر رات شاپنگ نہ کریں:مریم ،پختونخوا کابینہ کا فیول الاؤنس نصف ، سکولوں میں ایک دن کی اضافی چھٹی

اسلام آباد( نامہ نگار ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر بچت کیلئے ہنگامی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا پٹرول مزید مہنگا ہونے والاہے کوشش ہوگی عوام پر بوجھ نہ پڑے ، وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت وزرا،ارکان پارلیمنٹ،اعلیٰ افسروں کی تنخواہوں اور پٹرول میں کٹوتی، بیرون ملک دوروں پر پابندی ، دفاتر میں3ہفتہ وار چھٹیوں، نصف سٹاف کے گھر سے کام اور 2ہفتوں کیلئے تعلیمی ادارے بندکرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے ، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری، تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بردار مسلم ممالک، سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے ۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے ، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل پر منحصرہے ، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے ، ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جن کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے ۔انہوں نے بتایا کہ مجھے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی تھی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔

انہوں نے کہا پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا،ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معیشت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی،مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا،جس سے مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا ہے ،روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے ، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے ،ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے ،گھر کے بزرگوں کی دوائی کیلئے پیسے کم پڑ جائیں ، بچوں کے تعلیمی اخراجات کی فکر ہو تو کرب ہوتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، اگلے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا،کوشش ہوگی تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے ،دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں،ان شاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا،اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں،اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں۔

ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریبوں، محنت کشوں اور تمام رزق حلال کمانے والوں نے ہمیشہ وطن کیلئے آگے بڑھ کر قربانی دی،اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔ بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ، آئندہ دو ماہ کیلئے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا 50 فیصد پٹرول کم کردیا ہے ، ایمبولینسز اور عوامی استعمال کی بسوں کو استثنیٰ ہوگا،تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے ،دو ماہ کیلئے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے ، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی، 3لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے گریڈ 20 اور اوپر کے افسروں کی دو دن کی تنخواہ کاٹ کر عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جائے گی، تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے ،سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر دیگر اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائدکی گئی ہے ، ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی، یہ پابندی وزیر اعظم، وزرائے اعلٰی، صوبوں کے گورنرز پر بھی عائد ہو گی، آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ایندھن کی بچت ہوسکے ، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے ،سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی، ایندھن اور توانائی کی بچت کیلئے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا،ہفتے میں 4 دن دفاتر کھلیں گے ،ایک اضافی چھٹی کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا، صنعت، زراعت کے شعبوں پر بھی گھر سے کام کر نے اور ہفتے کی اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا، فوری طور پر تمام سکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں،ہائیر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے ، ذخیرہ اندوزوں، پٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبر دار کرتے ہیں، اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں، قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی،تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

دنیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے ، ایسے میں اتحاد، اخو ت اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے ۔رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخو ت، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا ہے ، یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ ہوتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے ،مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے ۔آخر میں انہوں نے علامہ اقبال کا شعر پڑھا کہ ‘‘آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا۔۔۔آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا’’۔قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری کیلئے اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا گیا، وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی۔

نئی پالیسی کا اطلاق تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ پر یکساں لاگو ہوگا، حکومت نے جون 2026ء تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے ، آئی ٹی خریداری صرف این آئی ٹی بی کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام عہدے داروں پر ہوگا۔ ناگزیر سرکاری دوروں کے سوا کسی بھی قسم کے بیرونِ ملک سرکاری سفر کی اجازت نہیں ہوگی، بیرونِ ملک سفر کی صورت میں تمام حکومتی عہدے دار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے ، یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔

ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کیلئے نہیں ہوگی، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے ۔حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے ، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے ، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔ غیرترقیاتی بجٹ میں بیس فیصد کٹوتی سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے ۔ 

لاہور(خبرنگار،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ مریم نواز نے اعلان کیا کہ پٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزرا کیلئے سرکاری فیول بند کیا جائے گا،سرکاری افسروں کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں 50 فیصد فوری کمی کردی گئی۔صوبائی وزرا اور اعلی سرکاری افسروں کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ناگزیر سکیورٹی کے لئے صرف ایک گاڑی صوبائی وزرااور اعلیٰ سرکاری افسر کے ہمراہ ہوگی۔ سرکاری دفاتر میں ’’ورک فرام ہوم ‘‘کا فیصلہ کیا گیا ہے ، صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئیگا۔ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں، 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے ۔سکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گی۔شہریوں کی سہولت کیلئے ای بزنس اور ‘‘مریم کی دستک ’’ کے تحت سروسز جاری رہیں گی۔سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گی۔سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئی اور ہارس اینڈ کیٹل شو کا ثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا۔

پٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا ہے ۔پی آئی ٹی بی کو پٹرولیم مصنوعات کے لئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ، پولیس، پیرا اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیارکرنے والی ٹیم میں شامل ہوں گے ۔مریم نواز شریف نے مزیدکہا کہ ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ سٹاف کی آمد و رفت بند کی جارہی ہے ، دفاتر میں کام بند نہیں ہوگا۔نجی سیکٹر کو ورک فرام ہوم، غیر ضروری تقریبات نہ کرنے اور صرف ضروری سٹاف بلانے کی ایڈوائزری ایشو کی جارہی ہے ۔تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے ۔ زائد اور ناجائز کرایے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔پنجاب میں اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد کی سخت نگرانی کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے اپیل کی کہ بحرانی صورتحال کے پیش نظرعوام آؤٹ ڈور فنکشن نہ کریں۔ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں۔ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشکل ترین بحران میں جرأتمندانہ فیصلوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔بہادر قومیں مشکل حالات کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سے مقابلہ کرتی ہیں۔دریں اثنا خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں 2 ماہ کیلئے فیول بچت اقدامات نافذ کردیئے ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ بچت اقدامات میں توسیع صورتحال کے تجزیے کے بعد ہوگی، سرکاری محکموں میں میٹنگز کو 100 فیصد ورچوئل (آن لائن) کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

کابینہ نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں 25 فیصد کمی کی منظوری دے دی۔ اس کٹوتی سے مجموعی کٹوتی 50 فیصد ہوگئی ہے ، 25 فیصد کٹوتی کووڈ اقدامات کے وقت سے نافذ العمل ہے ۔ پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فیول کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گے ، سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جمعہ کے دن تعلیمی ادارے بند رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ فیول استعمال میں کمی لائی جا سکے ، اس کے ساتھ ورچوئل کلاسز کو ترجیح دی جائے گی۔معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق کابینہ نے وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر کے غیر ضروری استعمال میں بڑی کمی کا فیصلہ کیا ہے ، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری، غیر ضروری تقریبات اور سرکاری ڈنرز پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ پٹرول پمپس کی روزانہ مانیٹرنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، کسانوں کو گندم کٹائی کیلئے ڈیزل کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، صوبائی حکومت عوام پر بوجھ ڈالے بغیر فیول بچت اور معیشت کے تحفظ کی پالیسی پر عملدرآمدیقینی بنا ئے گی ۔ علاوہ ازیں حکومت بلوچستان نے صوبے بھر کے سرکاری اور نجی سکول آج سے 23 مارچ کیلئے بند کردئیے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں