ایران کے جوابی حملے،اسرائیل میں بڑی تباہی:سعودی عرب پر حملوں سے تعلق نہیں:پاسداران انقلاب،مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں تو سرنڈر کر دیں:ٹرمپ
وسطی اسرائیل میں کئی گاڑیاں تباہ ، آگ بھڑک اٹھی ،امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچا ،فالس فلیگ آپریشن کیلئے شاہد ڈرونز کی نقل تیار کر کے استعمال کیاجارہا:ایران،دعویٰ بے بنیاد:امریکا سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطرکا کئی ایرانی ڈرونز اور میزائل گرانے کا دعویٰ ،ایرانی صوبے اصفہان پر حملوں میں 15افراد شہید ،نیتن یاہو کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیا :ایرانی فوج
تہران ،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کے تحت حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے ،گزشتہ روز امریکی تنصیبات اور اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا جس میں بڑی تباہی ہوئی ،پاسداران انقلاب نے سعودی عرب پرحملوں سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ امریکا شاہدڈرونز کی کاپی بناکر فالس فلیگ آپریشن کررہاہے ۔امریکی صدر کا کہناہے کہ ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کی شہادت کی خبر افواہ ہوسکتی ہے اگروہ زندہ ہیں تو سرنڈر کردیں ۔امریکا اور اسرائیل کے بھی ایران پرحملے جاری ہیں اور گزشتہ روز صوبہ اصفہان کے کئی مقامات کو نشانہ بنایاگیا۔تفصیلات کے مطابق پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کے سلسلے کی 51 ویں کارروائی میں سعودی عرب کے شہر الخرج میں قائم امریکی فوجی اڈے پرمیزائل داغے اورایف تھرٹی فائیو اور ایف سکسٹین لڑاکا طیاروں کے تربیتی مراکز کو ہدف بنایا ۔ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ شہید ابوالقاسم بابائیان اور ان کی اہلیہ کی یاد میں کیا گیا۔اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں حملوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تل ابیب میں متعدد کلسٹر بموں میں سے ایک کے گرنے سے بیسیوں افراد زخمی ہوئے ۔تل ابیب میں سائرن گونجتے رہے ،کئی گاڑیاں تباہ ہوگئیں جبکہ کچھ مقامات پر آگ لگ گئی اور لوگ افراتفری کا شکار نظر آئے ۔ تل ابیب پر داغے گئے ایرانی میزائل کے ٹکڑے سے امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے اندرونی حصوں کو نقصان پہنچا تاہم اس وقت سفارتکار کی موجودگی کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
حملوں کے بعد متعدد علاقوں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں اور اسرائیلی حکام نے نقصان کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کچھ ایرانی میزائل آسمان پر ہی پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے چھوٹے چھوٹے کلسٹر بم نکلتے ہیں، ان سے زیادہ نقصان تو نہیں ہوتا لیکن یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے جاری ہیں، صوبہ اصفہان کے کئی مقامات پرحملوں میں 15 افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیا گیا ہے اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں تلاش کر کے ختم کیا جائے گا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں،انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے فالس فلیگ آپریشن کیلئے شاہد ڈرونز کی نقل تیار کر کے استعمال کی۔ امریکا نے ایران کے ان دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکاخلیجی ممالک پر ڈرون حملوں میں ملوث ہیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل خلیجی ممالک پر حملوں کے پیچھے ہو سکتے ہیں اور الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے جبکہ پاسداران انقلاب نے بھی سعودی عرب پر حملو ں سے اظہار لاتعلقی کیاتھا ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ تمام ممالک کیلئے کھلی ہے اور واشنگٹن اس اہم راستے کی حفاظت کیلئے چین سے مدد مانگنے پر مجبور ہو گیا ہے ۔ان کا ایک بیان میں کہناتھاکہ امریکا نے خارگ اور ابو موسیٰ کم فاصلے پر مار کرنے والے راکٹوں سے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین سے حملے کئے ۔
اب یہ بالکل واضح ہوگیا ہے امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کررہا ہے جو ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ حملے متحدہ عرب امارات کی علاقوں راس الخیمہ اور دبئی کے نزدیک سے کئے گئے ، یہ بہت خطرناک بات ہے کہ اتنی زیادہ آبادی والے علاقوں سے ہم پر حملے کئے جارہے ہیں، ہم ان حملوں کا جواب ضرور دیں گے لیکن ہم خیال رکھیں گے کہ آبادی والی جگہوں کو نشانہ نہ بنائیں۔امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے پڑوسیوں پرسینکڑوں کی تعداد میں ڈرونز اور میزائل فائرکئے ہیں ۔ایران نے بھارت کے دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جبکہ اس سے قبل ترکیہ کے ایک جہاز کو بھی راستہ دیا جا چکا ہے ۔ اس پیش رفت کے بعد فرانس اور اٹلی نے اپنے جہاز نکالنے کیلئے ایران سے براہ راست رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔بحری ٹینکروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم ٹینکر ٹریکرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جارہا ہے ، 7 ٹینکر تیل لینے کیلئے آئے ،5 ٹینکرز پر تیل لوڈ کر دیا گیا جبکہ2 تیل لینے کے منتظر ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بنیامین نیتن یاہو کے قتل سے متعلق خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ محفوظ ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی تقریباً 43 ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جن میں 36 ہزار پانچ سو رہائشی یونٹس شامل ہیں۔ صرف تہران میں دس ہزار عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 43 ایمرجنسی طبی مراکز، 32 ایمبولینسز اور 120 سکول شامل تھے ۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں 223 خواتین جبکہ 206 اساتذہ اور طلبہ بھی جاں بحق ہوئے ۔سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ رات بھر اس نے اپنی فضائی حدود میں ایران کے 26 ڈرون مار گرائے ۔متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس کا دفاعی نظام ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے ۔بحرین نے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر قریبی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔عمان میں بھی سکیورٹی خدشات کے باعث امریکا نے غیر ہنگامی نوعیت کی خدمات انجام دینے والے عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔کویت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی نیشنل گارڈ نے 24 گھنٹوں میں ایران کے پانچ ڈرون مار گرائے ۔
قطر کاکہناہے کہ دن بھر ایران کی جانب سے کئے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔عراقی تنظیم کاتائب حزب اللہ نے بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی وکٹری بیس پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے خارگ میں ایرانی فوجی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ کردیااور یہ بھی کہا شاید تفریح کیلئے مزید حملے بھی کریں۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی شہادت کی خبر افواہ ہوسکتی ہے تاہم اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں سرنڈر کردینا چاہئے ۔ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن موجودہ شرائط مناسب نہیں ہیں اور اس وقت مذاکرات کے لیے حالات مناسب نہیں۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی کیلئے کئی ممالک نے تعاون کی پیشکش کی ہے اور اس راستے سے تیل لینے والے ممالک کو خود اس کی سکیورٹی یقینی بنانی چاہئے ۔صدر ٹرمپ نے کہا کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے جزیرہ خارگ کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا حکم نہیں دیا تاہم صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔