نیا پاکستان سرٹیفکیٹس قواعد میں ترامیم، سرمایہ کاری مزید آسان
بیرون ملک پاکستانیوں،غیر ملکی کمپنیوں کو سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کیلئے قانونی تحفظ ملے گا سرمایہ کاری مخصوص اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک سے بھیجی گئی رقوم سے ممکن بنائی جائیگی
اسلام آباد (ایس ایم زمان)وفاقی وزارت خزانہ نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس قواعد 2020 میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی قانونی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کا طریقہ کار مزید آسان اور محفوظ بنایا جا سکے ۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ نے مجوزہ ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا ۔مسودے کے مطابق رول 2 میں نئی شقیں شامل کی جا رہی ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو واضح قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔ ترمیم کے تحت فارن کرنسی بزنس ویلیو اکاؤنٹ کو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت کھولے گئے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کے طور پر تسلیم کیا جائے گا جبکہ نان ریزیڈنٹ روپی بزنس ویلیو اکاؤنٹ پاکستانی روپے میں کھولا جانے والا ایسا اکاؤنٹ ہوگا جو غیر ملکی زرِ مبادلہ کے قواعد کے مطابق کام کرے گا۔مجوزہ ترامیم کے مطابق غیر مقیم فرد کی تعریف میں اب عام افراد کے ساتھ تمام غیر مقیم قانونی ادارے ، بیرون ملک رجسٹرڈ کمپنیاں اور دیگر کارپوریٹ ادارے بھی شامل ہوں گے ۔
رول 3 میں تجویز دی گئی ہے کہ غیر مقیم افراد یا ادارے جو پاکستان کے مجاز بینکوں میں FCVA، FCBVA، NRVA یا NRBVA اکاؤنٹس رکھنے کے اہل ہوں وہ سٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس خرید سکیں گے ۔ سرمایہ کاری انفرادی یا مشترکہ طور پر بھی ممکن ہوگی۔مزید یہ کہ وہ پاکستانی جو ملک میں مقیم ہیں لیکن بیرون ملک اثاثے رکھتے ہیں اور انہیں ایف بی آر میں جمع کرائی گئی حالیہ ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کر چکے ہیں وہ بھی اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذریعے ان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکیں گے ۔قواعد 11 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق سرمایہ کاری کے لیے رقم لازمی طور پر بیرون ملک سے متعلقہ اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان منتقل کی جائے گی۔ قواعد 13 میں ترمیم کے تحت اگر سرٹیفکیٹ ہولڈر کوئی کمپنی یا قانونی ادارہ ہو جو تحلیل ہو جائے تو اصل رقم اور منافع کی ادائیگی اس ملک کے قوانین کے مطابق کی جائے گی جہاں وہ کمپنی رجسٹرڈ ہو۔