افغان طالبان کی باجوڑ میں شہری آبادی پر گولہ باری،4بھائی شہید،بچہ زخمی

افغان طالبان  کی  باجوڑ  میں  شہری  آبادی  پر  گولہ  باری،4بھائی  شہید،بچہ  زخمی

شدید مایوسی اور بے بسی کا شکار افغان حکومت کا شہری آبادی کو نشانہ بنانا بزدلانہ اور گھناؤنا عمل :وزیر اطلاعات آپریشن غضب للحق جاری ، 684 طالبان رجیم کارندے ہلاک، 912 زخمی ہوچکے ، 73 مقامات پر فضائی کارروائی

باجوڑ،راولپنڈی، اسلام آباد(اے پی پی ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک )باجوڑ میں سرحدپار سے افغان طالبان کی شہری آبادی پر گولہ باری سے 4 بھائی شہید، بچہ شدید زخمی ہوگیا۔دوسری طرف پاک فوج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے اور اس میں اب تک 684 طالبان رجیم کارندے ہلاک، 912 زخمی ہوچکے ہیں، 73 مقامات پر فضائی کارروائی کی گئی ہے ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے گزشتہ روز باجوڑ میں بے گناہ شہریوں پر حملہ کیا گیا اور ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 4 شہری شہید اور ایک بچہ زخمی ہوا۔عطا تارڑ نے بتایاکہ سرحد پار سے مارٹر اور فائرنگ سے تبستہ لیٹئی سالارزئی باجوڑ کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا،جس کے نتیجے میں 4بھائی ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شہید ہو گئے ۔عطا تارڑ نے کہا کہ یہ بزدلانہ اور گھناؤنا عمل ہے ،افغان طالبان حکومت کا فتنہ الخوارج کے ساتھ مل کر جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی ہے کہ وہ شدید مایوسی اور بے بسی کا شکار ہیں۔دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان سے جنگ کی صورتحال بارے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کی افغانستان میں کارروائیوں کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کی 252 چیک پوسٹیں تباہ اور44 پر قبضہ کرکے تباہ کی جا چکیں، 229 ٹینکس، آرمرڈ وہیکل اور آرٹلری گنز کوبھی تباہ کیا جاچکاہے ۔

وزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے 73 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانے شامل تھے ۔ان کارروائیوں کے دوران پاکستان کی فورسز نے قندھار میں ایک سرنگ بھی تباہ کردی جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے تکنیکی آلات رکھے گئے تھے ۔ اسی طرح چترال سیکٹر میں افغانستان کی بادینی پوسٹ پر موجود دہشت گردوں کے جمپ آف پوائنٹ کو زمینی افواج کی کارروائی کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بادینی پوسٹ کو مختلف زمینی ہتھیاروں اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے مکمل تباہ کیا گیا۔وزیر اطلاعات کے مطابق کسی بھی شہری آبادی یا شہری انفرا سٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا جیسا کہ افغان حکومت اوران کا میڈیا غلط طور پر پروپیگنڈا کر رہا ہے ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چترال میں ملحقہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بادینی پوسٹ کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بناکر تباہ کردیا۔ ادھر وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کی وزارت دفاعی امور کی جانب سے وانا میں کامیاب حملے کا دعویٰ بے نقاب کر دیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی وزارت دفاعی امور نے وانا میں کامیاب حملے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون کو سوفٹ کل میژرز کے ذریعے تباہ کیا گیا اور کسی فوجی تنصیب یا انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں