وزیر پٹرولیم مزید متحرک ہوں،سپلائی بہتر بنائیں،ادارے ہنگامی اقدامات کریں:شہباز شریف
پٹرولیم مصنوعات،ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود، ،کابینہ ارکان نے رضاکارانہ تنخواہیں نہیں لیں ، ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس میں بریفنگ وزیر اعظم کی زرعی تحقیقاتی کونسل کو چین کی طرز پر تحقیقاتی ادارہ بنا نیکی ہدا یت ،تنظیم نو کی اصولی منظوری ، قازقستان کے صدر سے رابطہ، ریفرنڈم میں کامیابی پر مبارکباد دی
اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، پٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پٹرولیم مزید متحر ک ہوں، وہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ، اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا،بریفنگ میں بتایاگیاکہ وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ، ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے ، بریفنگ میں بتایاگیاکہ تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے ، اور پٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے۔
مزید بتایا گیا کہ تمام کابینہ ارکان نے رضاکارانہ طور پرتنخواہیں نہیں لیں ،سرکاری محکموں کی تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، بچت کے اقدامات سے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ بریفنگ میں بتایاگیاکہ ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ملک میں ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے ۔ ورک فرام ہوم کے حوالے سے سرکاری ای-افس کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی کنیکٹیویٹی کے انتظامات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں نائب وزیراعظم ، وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسروں نے شرکت کی۔
دریں اثنا وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے امور پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کو چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے طرز پر زرعی تحقیق کے حوالے سے اعلی ٰتحقیقاتی ادارہ بنانے کی ہدا یت کی اور کہاکہ زرعی تحقیق کا ملک کے زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے کے فروغ میں کلیدی کردار ہے ،اجلاس میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی ) کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دی گئی ، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹائم لائن کے ساتھ پی اے آر سی کی تنظیم نو کیلئے جامع پلان تیار کیا جائے ، اجلاس کو پی اے آر سی کو زرعی تحقیق کا جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال ادارہ بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی، قومی غذائی ضروریات پوری کرنے اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے پی اے آر سی کو ایک فعال ادارہ بنانے کیلئے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات ، بہترین تحقیقی عملے کی خدمات، بین الاقوامی شراکت داری، صوبائی حکومتوں کے ساتھ بہتر روابط، اور کارکردگی کے واضح اہداف اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں ، پی اے آر سی کے تحت کام کرنے والے تمام تحقیقی مراکز کو یکجا کرکے پانچ سنٹر آف ایکسیلنس بنائے جائینگے ۔
یہ سنٹرز زیادہ پیداوار والے بیج، اعلی ٰنسل کے مویشی، پریسیشن ایگریکلچر، فارم میکانائزشن اور اس میں اے آئی کا استعمال، اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں تحقیق کا کام کرینگے ۔ علاوہ ازیں شہبازشریف نے جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایئف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے قازقستان میں تاریخی آئینی ریفرنڈم میں کامیابی پر صدر توکایئف کو مبارکباد دی، وزیر اعظم نے کہا کہ نئے آئین کے لیے زبردست ٹرن آؤٹ اور حمایت قازقستان کے عوام کے صدر کی قیادت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے ، صدر توکایئف نے وزیراعظم کو اس سال کے آخر میں قازقستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دہرائی جسے وزیرِ اعظم نے قبول کر لیا ۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیشرفت بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ، وزیراعظم نے عیدالفطر کے پرمسرت موقع پر صدر توکایف اور قازقستان کے برادر عوام کو بھی تہہ دل سے پیشگی مبارکباد پیش کی۔