ٹرانسپورٹرز نے کرایے ڈبل کردیئے، ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ، شہری اڈوں پر خوار
پردیسیوں کی عیدکیلئے روانگی کے ساتھ ہی بین الصوبائی ٹرانسپورٹرز نے بکنگ بند کردی،اضافی رقم پرسیٹ دی جاتی اوورلوڈنگ معمول،اعتراض کرنے پرٹکٹ نہیں دیاجاتا،بدتمیزی بھی کی جاتی،متعلقہ حکام سخت نوٹس لیں:شہری
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے )عید الفطرکی سرکاری تعطیلات شروع ہونے سے قبل ہی اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کیلئے پردیسیوں نے آبائی علاقوں کا رخ کرلیا جبکہ بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی ٹرانسپورٹ نے کرایوں کی شرح میں اضافہ کردیا ہے۔ ٹرانسپورٹ اڈوں پر آبائی علاقوں کوجانے والے مسافروں کا رش روز بروز بڑھتا جارہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز نے زائد کرائے سمیت اوورلوڈنگ کوبھی معمول بنا لیا ہے۔ عید پر معمول کے کرائے کے ساتھ کہیں دوگنا اور کہیں ساٹھ سے ستر فیصد اضافی کرایہ وصول کیا جانے لگا جبکہ بکنگ بھی سے بند کر دی گئی ہے، ٹکٹوں کے حصول کیلئے شہری اڈوں کے چکر لگانے پرمجبور ہیں، جس کے باعث اپنے آبائی علاقوں کوجانے والے پردیسیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں نے روزنامہ دنیا کوبتایا ابھی سے بین الصوبائی روٹس پرٹرانسپورٹرز نے کرایوں کی شرح میں اضافہ کردیا ہے اور بڑی بسوں میں موڑھے رکھ کر اضافی سواریاں بٹھائی جارہی ہیں جبکہ کرایہ بھی اضافی وصول کیاجارہاہے، اگر کوئی اضافی کرایہ پراعتراض کرے تو اسے نا صرف ٹکٹ نہیں دیا جاتا بلکہ بدتمیزی بھی کی جاتی ہے۔
دوسری جانب جڑواں شہروں سے بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ نے عیدپر اپنے آبائی علاقوں کوجانے والے پردیسیوں کوبلیک میں مہنگے داموں ٹکٹس دینامعمول بنا لیا ہے ۔ مختلف اضلاع میں جانے والوں یا ایڈوانس میں ٹکٹ لینے کے لئے آنے والے مسافروں کو اڈوں پر جواب دیا جاتا ہے کہ گاڑی اڈے پرموجود نہیں یاسیٹ دستیاب نہیں،انتظار کریں ، جبکہ بلیک میں پانچ سو سے ایک ہزارروپے میں ٹکٹس فوری مل جاتاہے اور من پسند سیٹ بھی مل جاتی ہے۔ اتوار کے روزبھی جڑواں شہروں کے ٹرانسپورٹ اڈوں پر آبائی علاقوں کوجانے والے مسافرقسمت آزمائی کرتے رہے۔ شہریوں نے بتایا کہ ابھی عید کی چھٹیاں شروع نہیں ہوئیں اورابھی سے مہنگے داموں بلیک میں ٹکٹس دئے جارہے ہیں ، اب توعید پر اپنے پیاروں کے پاس جانا بھی مشکل ہو کررہ گیا ہے ۔شہریوں کے سیکرٹری آرٹی اے اورٹریفک پولیس کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کی بلیک مارکیٹنگ اور بدتمیزی کاسخت نوٹس لیاجائے۔