شبر زیدی و دیگر کیخلاف ماتحت عدالت کی کارروائی غیر قانونی قرار
کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں ٹھٹھہ کی ماتحت عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیشن عدالت ٹھٹھہ کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ جسٹس حسن اکبر نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ فوجداری ضابطہ کار کے تحت اصول ہے کہ مقدمہ اسی مقام پر چلایا جائے جہاں مبینہ جرم سرزد ہوا ہو۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہتک عزت کی بے بنیاد شکایت پر ماتحت عدالت نے بغیر کسی قانونی جواز کے اختیار استعمال کیا، جبکہ عدالت نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ صرف کسی شخص کا کسی مقام پر مبینہ ہتک آمیز مواد پڑھ لینا یا اس سے آگاہ ہونا جرم کا لازمی جزو نہیں بنتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ مبینہ ہتک آمیز مواد سندھ ہائی کورٹ کراچی میں دائر درخواست کا حصہ تھا، جسے نہ تو ٹھٹھہ میں شائع کیا گیا اور نہ ہی ملزموں کی جانب سے وہاں بھیجا گیا، اس لیے ٹھٹھہ میں دائر کی گئی شکایت قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ہتک عزت کا جرم اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب مواد کسی تیسرے فریق تک پہنچایا جائے ، جبکہ اس مقدمے میں ایسا کوئی عنصر ثابت نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ ٹھٹھہ کی سیشن عدالت نے مدعی اسد رضوی کی براہ راست شکایت پر شبر زیدی، عمر محمد، علی احسن اور فہد خان کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے ، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے مذکورہ کارروائی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے براہ راست شکایت بھی ختم کر دی ہے۔