شرائط کے تبادلے سے مذاکرات کے راستے بند نہیں ہوئے

شرائط کے تبادلے سے مذاکرات کے راستے بند نہیں ہوئے

تاریخ کا سبق ہے کہ جنگیں ہمیشہ مذاکرات پر ختم ہوتی ہیں، مرحلہ وار جنگ بندی ہوگی

(تجزیہ: سلمان غنی)

امریکا کی جانب سے ایران سے پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے حل کے لیے پیش کردہ پندرہ تجاویز کے جواب میں  ایران کے طرزِ عمل، اور خصوصاً امریکی تجاویز مسترد کرنے کے اعلان سے ایک بار پھر خطرات اور خدشات سر اٹھاتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایران پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو جنگ بندی، اور خصوصاً بالواسطہ و بلاواسطہ مذاکراتی عمل کے امکانات سامنے آئے تھے ، وہ بھی متزلزل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران میں جاری جنگ و جدل کا منطقی انجام کیا ہوگا؟ کیا ڈائیلاگ کے لیے جاری پسِ پردہ اور کھلی کوششیں نتیجہ خیز ہو پائیں گی؟ اور یہ کہ اتنے بڑے جانی و مالی نقصان کے باوجود ایران دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرنے کو کیوں تیار نہیں؟جہاں تک امریکی تجاویز کی بات ہے تو یہ پاکستان کے ذریعے ایران کو بھجوائی گئی تھیں۔ ان تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے یکسر خاتمے ، اس کی پراکسیز کے سدباب، میزائل ٹیکنالوجی کی مشروط اجازت، اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے ساتھ اسے فری ٹریڈ زون بنانے کی بات شامل تھی۔ اس کے ساتھ امریکا نے جنگ بندی کو ایک ماہ تک محدود رکھنے کی تجویز بھی دی تھی۔مذکورہ تجاویز سے امید پیدا ہوئی تھی کہ بات آگے بڑھ سکتی ہے ، لیکن جواباً ایران نے امریکی تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا، اور یہ کارروائیاں ایرانی شرائط پوری ہونے تک جاری رہیں گی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کی تاریخ دیں۔ایرانی شرائط میں حملوں کا رکنا، ایرانی عہدیداروں کے قتل کا خاتمہ، دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت، اور نقصانات کے ازالے کے مطالبات شامل ہیں۔

ایرانی ترجمان کے مطابق جنگ بندی کا اعلان اور فیصلہ ایران خود کرے گا۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی صورت پسپائی کے موڈ میں نہیں۔حالات کا جائزہ لیا جائے تو امریکا پھنسا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ ایران جارحانہ حکمتِ عملی پر گامزن ہے ۔ امریکا کی جانب سے مذاکرات کی بات اور پانچ روزہ جنگ بندی کے عمل کے پیچھے بعض اہم خلیجی ممالک، خصوصاً پاکستان کی کوششیں کارفرما تھیں، کیونکہ جنگ کا رخ ظاہر کر رہا تھا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو صورتحال دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔پاکستان کی پسِ پردہ کاوشوں کو پذیرائی اس لیے ملی کہ اس نے فریق بننے کے بجائے پل کا کردار ادا کیا۔ اس کا کردار ایک سہولت کار اور ثالث کے طور پر امن کے لیے تھا، اور ان کوششوں کو امریکا سمیت خلیجی ممالک اور ایران نے بھی سراہا۔تاہم یکایک امریکا کی جانب سے آنے والے پندرہ نکات کا مقصد یہ تھا کہ ایران مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے گا، لیکن ایرانی ردِعمل سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔اب اصل چیلنج پاکستان اور ان ممالک کے لیے ہے جو جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ، کیونکہ کسی ایک فریق کی طرف جھکاؤ اس کے علاقائی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک پرامن حل پر زور دیں گے ، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ ایران خودسر ہو جائے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری جنگ بندی آسان نہیں، مگر پاکستان، سعودی عرب اور چین مل کر مذاکرات کا راستہ کھول سکتے ہیں اور بات کسی نتیجے تک پہنچ سکتی ہے ۔لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ شرائط کے تبادلے سے مذاکرات کے راستے بند نہیں ہوئے بلکہ مذاکرات کی غیر اعلانیہ ابتدا ہو چکی ہے ۔جہاں تک دیگر عالمی قوتوں کے کردار کا تعلق ہے تو تیل کی قیمتیں اور عالمی معیشت کے حالات انہیں بھی جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ عالمی ماہرین کی رائے ہے کہ امریکا اور ایران کھلی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیے کشیدگی کے بعد وقفہ اور پھر جنگ بندی ایک حقیقت پسندانہ راستہ ہے ۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جنگیں اچانک شروع ہوتی ہیں مگر ہمیشہ مذاکرات پر ختم ہوتی ہیں۔ لہٰذا جنگ بندی ہوگی، مگر مرحلہ وار ہوگی، جبکہ مستقل امن معاہدہ فوری طور پر ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں