20 پاکستانی پرچم بردار جہاز ہرمز سے گزارنے کی اجازت، ایران کو برآمدات کیلئے قواعد میں نرمی
یومیہ 2 جہاز آبنائے ہرمز سے گزریں گے ، ایران کا یہ اقدام امن کی نوید ، خطے میں استحکام کیلئے مدد گار:ڈارکاایکس پیغام،جے ڈی وینس،مارکوروبیو،ایرانی وزیرخارجہ کوٹیگ کیا ایران، آذربائیجان ،وسطی ایشیائی ریاستوں کو 3ماہ کیلئے چاول،آلو، گوشت،فارماسیوٹیکل ودیگر اشیابرآمدکرنے کی اجازت ، بینک گارنٹی،لیٹرآف کریڈٹ سے عارضی استثنیٰ
اسلام آباد(وقائع نگار،نمائندہ دنیا ،مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے ۔دوسری طرف پاکستان نے ایران کو برآمدات کیلئے قواعد نرم کرتے ہوئے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دینے کی منظوری دے دی ہے ۔ شپنگ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 2 جہاز پی این ایس سی کا جہاز ملتان اور چارٹر جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکل آئے ۔ذرائع کے مطابق چارٹر جہاز پی الیکی میں ساڑھے 8 کروڑ لٹر خام تیل لدا ہوا ہے ، دونوں بحری جہاز 31 مارچ کو پاکستان پہنچیں گے ۔ اسحاق ڈار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردارجہازوں کو آنے دیگا، ایران نے 20پاکستانی پرچم بردارجہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، روزانہ دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزریں گے۔
دوسری طرف نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پرپیغام میں کہا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور تعمیری اقدام ہے۔ ایران کا یہ قدام امن کی نوید ہے ، خطے میں استحکام کے فروغ میں مدد دے گا۔ یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی قدم ہے۔ مکالمہ، سفارت کاری اور ایسے اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ اسحاق ڈار نے ایکس پر پوسٹ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ، مارکو روبیو ، ایرانی وزیرخارجہ اور سٹیو وٹکوف کو ٹیگ کیا۔ علاوہ ازیں مشرق وسطی کشیدگی کے تناظر میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کو برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دینے کی منظوری دے دی۔اس اقدام کے تحت زمینی راستے کے ذریعے ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کی اجازت دے دی گئی۔
وزارت تجارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے برآمدات پر فنانشل انسٹرومنٹ کی شرط سے تین ماہ کے لیے خصوصی رعایت دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایران کو چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور پھلوں سمیت متعدد اشیاء برآمد کی اجازت ہوگی جبکہ فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمد بھی رعایت میں شامل ہے ۔سٹیٹ بینک کے ضوابط سے جزوی استثنیٰ دیا گیا تاہم برآمدی آمدن مقررہ مدت میں واپس لانے کی شرط برقرار رہے گی۔وزارت تجارت کے مطابق اس اقدام سے خطے میں تجارتی روابط مضبوط ہوں گے اور برآمدکنندگان کو سہولت میسر آئے گی۔وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو چاول برآمد کر سکے گا ۔ ایران کے راستے تجارت سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی، برآمدات میں اضافہ کر کے ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جائیں گے۔