اقلیتوں کیلئے افغان سرزمین تنگ، مسیحی برادری خوف کا شکار
مسیحی چھپ کر عبادات پر مجبور، ہزاروں سکھ، ہندو افغانستان چھوڑچکے ، چرچ ٹائمز موجودہ سیاسی و سماجی ڈھانچہ اقلیتوں کیلئے نا سازگار ، افغانستان غیر محفوظ ملک ، ماہرین
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)قابض طالبان رجیم میں اقلیتوں خصوصا ًمسیحی برادری کے لئے افغان سرزمین تنگ کردی گئی، مسیحی برادری خوف اور جبر کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، برطانوی جریدے نے طالبان رجیم میں اقلیتی برادری پر ہونے والے مظالم اور بدترین ناانصافیوں کو بے نقاب کردیا۔برطانوی جریدہ چرچ ٹائمز کے مطابق افغانستان میں کوئی عوامی چرچ موجود نہیں، مسیحیوں کواقلیتی برادری کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔
طالبان کے خوف کے باعث افغان مسیحی بند کمروں میں چھپ کرعبادات کرتے ہیں اور وہ سرکاری ملازمتوں اور علاج معالجے سے بھی محروم ہیں ، حالیہ برسوں میں ہزاروں سکھ اور ہندو افغانستان چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ماہرین کے مطابق مسیحی برادری کو شدید دباؤ ، عدم تحفظ اور سماجی پابندیوں کا سامنا ہے ، موجودہ سیاسی و سماجی ڈھانچہ اقلیتوں کیلئے سازگار نہیں رہا جبکہ عالمی سطح پر افغانستان ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔