پاکستان،سعودی عرب،ترکیہ،مصر کے وزرا خارجہ کا اجلاس،مشرق وسطیٰ کشیدگی میں کمی پر مشاورت،نتیجہ خیز بات چیت ہوئی:اسحاق ڈار:امریکا ایران مذاکرات،مثبت کردار جاری رکھیں گے:شہباز شریف
اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت،مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں ،پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا:وزیراعظم سعودی عر ب ،ترکیہ ، مصر کے وزراء خارجہ کی شہبازشریف سے الگ الگ ملاقاتیں ، 4ملکی اجلاس کے دوران ایران امریکا جنگ بندی کیلئے مشاورت ،تنازعات کے مستقل خاتمے پر زور اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ،مہمان وزرا خارجہ اور چین نے مکمل حمایت کی ،تنازعات کے حل کیلئے بات چیت اور سفارتکاری ہی قابلِ عمل راستہ :نائب وزیراعظم
اسلام آباد (نامہ نگار ،وقائع نگار)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کیساتھ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مشاورتی اجلاس میں شریک سعوی عرب ، ترکیہ اور مصر کے وزرا خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں،وزرائے خارجہ نے دوران گفتگو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک میں کشیدگی سے قیمتی جانوں، معیشت اور املاک کا نقصان ہو رہا ہے ، خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں،پاکستان، ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے وزیراعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کیلئے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر جامع مشاورت کی۔ وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے اپنی نیک تمناؤں اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے پیغامات دئیے ۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن اور استحکام کیلئے اپنے موقف کو قریبی ہم آہنگی کے ساتھ جاری رکھیں گے ۔
اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کے غیرمعمولی تحمل کو سراہا، وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں ولی عہد کے ساتھ اپنی گفتگوکا حوالہ بھی دیا۔ وزیر اعظم نے مسلم امہ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیا اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو اجاگرکیا۔سعودی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم سے اظہار تشکر کیا اور خطے کی صورتحال پر اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں اور قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر بن عبدالعاطی نے بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات کی ۔دوران ملاقات وزیراعظم نے ترک اور مصر کے صدر کیلئے نیک تمناؤں اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا اور ان رہنماؤں سے اپنی حالیہ گفتگو کا تذکرہ بھی کیا۔ وزرا خارجہ کی وزیرِ اعظم ہاؤس آمد پر وزیر اعظم نے اپنے دفتر میں ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ان ملاقاتوں میں اسحاق ڈار، مشیر برائے قومی سلامتی محمد عاصم ملک اور معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی بھی موجود تھے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے دفترمیں مہمان وزرائے خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا۔
اسلام آباد(وقائع نگار ،نامہ نگار)مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی کیلئے اسلام آباد میں گزشتہ روزنائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعوی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا ۔اسحاق ڈار کی دعوت پر ہونیوالے چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطے میں کشیدگی کی صورت حال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی، خطے میں امن اور استحکام کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری سے معاملات حل کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔اہم بیٹھک سے پہلے وزیر خارجہ اسحاق ڈارکا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے دیرپا امن کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد مؤثر راستہ قرار دیا۔ جنگ روکنے کی کوششوں کیلئے چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے متعلق بھی بات کی گئی۔
اسلام آباد میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے دوسرے اجلاس کے اختتام پر اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کی بحالی کیلئے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، مشاورتی اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال، جاری جنگ اور امن کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ تمام ممالک نے جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اوراس امر پر اتفاق کیاکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس سے صرف تباہی اور ہلاکتیں بڑھیں گی، لہٰذا مشکل وقت میں امتِ مسلمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے ۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس مشاورتی سلسلے کا پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں ہوا تھا جبکہ دوسرا اجلاس اب اسلام آباد میں ہوا ہے ۔مہمان وزرا خارجہ کو اسلام آبا دمیں امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات سے بھی آگاہ کیا ، جس پر تمام ممالک نے پاکستان کے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
چاروں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی کو کم کرنے ، فوجی تصادم کے خطرات کو محدود کرنے اور بامعنی مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ،انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کے حل کیلئے صرف بات چیت اور سفارتکاری ہی قابلِ عمل راستہ ہے ، اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں، بالخصوص خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ نہایت اہم تعلقات ہیں،ہم امریکی قیادت کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے ،پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ امریکا اور ایران دونوں نے مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ، پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے تاکہ جاری تنازعے کا مستقل حل نکالا جا سکے ۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے بھی تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں چین نے پاکستان کے اس امن اقدام کی مکمل حمایت کی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دنیا بھر کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت ہوئی ، سب نے پاکستان کی امن کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا ۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں خلوص نیت اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گا۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ پاکستان کی اس کاوش کی کامیابی کیلئے تعاون اور دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ اس جنگ کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے ۔اجلاس سے قبل اسحاق ڈار نے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات کی توثیق کے ساتھ ایران سمیت مجموعی علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوئی اور امن و استحکام کیلئے مکالمے ، کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری پر زور دیا گیا جبکہ علاقائی ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس میں شریک ممالک کے وزرائے خارجہ کی پاکستان آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مشاورت خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔بعدازاں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہناتھاکہ جاری تنازع انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے میں عوام کی زندگیوں اور معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے ۔انہوں نے ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ایسے کسی بھی سفارتی اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی، عسکری تصادم کے خطرات کو کم کرنا اور بامعنی مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو۔