جنگ بندی کیلئے اسلام آبادمیں سفارتی سرگرمیاں عروج پر

جنگ بندی کیلئے اسلام آبادمیں سفارتی سرگرمیاں عروج پر

امریکا سمیت عالمی سطح پر نو کنگزریلیاں، جنگ کے خلاف شدید ردعمل

(تجزیہ:سلمان غنی)

ایک جانب اسلام آباد میں امریکا ایران جنگ بندی کے لیے سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، تو دوسری جانب دنیا بھر میں ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے ۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا عالمی دباؤ اور خطے کی سفارت کاری جنگ بندی کو ممکن بنا سکے گی؟امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کو کمزور کرنا اور ممکنہ طور پر رجیم چینج تھا۔ تاہم ایران نے غیر متوقع مزاحمت دکھائی، جس سے امریکی اندازے غلط ثابت ہوتے نظر آئے ۔ ایرانی ردعمل نے واضح کیا کہ وہ طویل جنگ کے لیے تیار ہیں اور ان کے پاس مو ثر دفاعی و میزائل صلاحیت موجود ہے ۔دوسری طرف عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ امریکا کی پچاس ریاستوں سمیت برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

نو کنگز ریلیوں نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا جنگ کے خلاف ہے اور اسے مسائل کا حل نہیں سمجھتی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر خود امریکا کے اندر تنقید بڑھ رہی ہے ۔ ان کے بیانات اور فیصلوں کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے ، جبکہ امریکی اتحادی بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ روایتی اتحادی برطانیہ بھی کھل کر ساتھ دینے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے ۔خطے میں کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک بھی پریشان ہیں، کیونکہ امریکی اڈے خود ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب جیسے ممالک کسی بڑی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے امریکا مزید سفارتی دباؤ میں آ گیا ہے ۔ایسے میں پاکستان نے متوازن اور ذمہ درانہ کردار ادا کیا ہے ۔ شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں سفارتی کوششیں تیز کی گئی ہیں۔ ایران اور امریکا دونوں سے رابطے کیے گئے ہیں جبکہ اسلامی ممالک کو بھی جنگ بندی کے لیے متحرک کیا جا رہا ہے ۔پاکستان کی یہی کوششیں اب ایک سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور عالمی سطح پر اسلام آباد کو سفارتی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔

امکان ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کلیدی کردار ادا کرے گا۔دوسری جانب امریکا کے اندر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے واپسی کے اشارے مل رہے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق زمینی فوج اتارنے پر غور بھی کیا جا رہا ہے ، تاہم زمینی حقائق اس آپشن کو مشکل بناتے ہیں کیونکہ ایران طویل جنگ کے لیے پہلے سے تیار ہے ۔حالات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو امریکا کے لیے صورتحال سازگار نہیں رہی۔ نہ وہ ایران کو مکمل طور پر زیر کر سکا اور نہ ہی عالمی حمایت حاصل کر پایا۔ اس کے برعکس ایران کے اندر قومی اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے اور عالمی سطح پر بھی اسے ہمدردی حاصل ہو رہی ہے ۔اس پس منظر میں جنگ بندی ہی واحد قابل عمل راستہ دکھائی دیتا ہے ۔ پاکستان اس حوالے سے امریکا کے لیے فیس سیونگ کا ذریعہ بن سکتا ہے ، کیونکہ اس نے کسی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے مذاکرات اور امن پر زور دیا ہے ۔آنے والے دنوں میں یہ طے ہوگا کہ جنگ بندی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ بنتی ہے یا عالمی دباؤ امریکا کو پسپائی پر مجبور کرتا ہے ۔ تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ کا تسلسل کسی کے مفاد میں نہیں، اور امریکا کے لیے باعزت واپسی ہی واحد راستہ بنتا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں