چین کے بیان سے مشرق وسطیٰ تنازع کے حل پر دباؤ بڑھے گا

چین کے بیان سے مشرق وسطیٰ تنازع کے حل پر دباؤ بڑھے گا

ایک طاقت کی بجائے متعدد پلیٹ فارمز کے ذریعے حل نکالنے کا رجحان مضبوط ہوا

(تجزیہ: سلمان غنی)

چینی ترجمان کی جانب سے پاکستان کی جانب سے امن کوششوں کی تائید اور ثالثی کردار کی حمایت کا اعلان پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ اسے عالمی و علاقائی محاذ پر اہم پیش رفت کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے ،چینی ترجمان کا یہ پالیسی بیان چین کے پاکستان سے تعلق اور دوطرفہ تعلقات چین کے جذبات کو نمایاں کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ چین بھی خلیجی ممالک میں تناؤ ٹکراؤ کے خاتمہ کے ساتھ امریکا ایران جنگ  کے خاتمہ اور امن کے قیام کا خواہاں ہے اور وہ اس ضمن میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ،دیکھنا ہوگا کہ چین کی طرف سے آنے والے پالیسی بیان کے پاکستان کی جانب سے امن کی کوششوں پر کیا اثرات ہوں گے اور چین خطہ میں پیدا شدہ صورتحال میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے ۔چین کی سیاسی تاریخ یہ ہے کہ وہ براہ راست ایسے تنازعات میں نمایاں کردار کی ادائیگی سے گریز برتتا ہے اور اس کا زیادہ انحصار بیک ڈور ڈپلومیسی پر ہوتا ہے چونکہ چین کے لئے اپنے معاشی مفادات مقدم ہوتے ہیں لہٰذا اسے سب سے بڑا مسئلہ عدم استحکام سے ہوتا ہے ۔خاص طور پر خلیجی خطے میں جہاں سے اس کی توانائی کی بڑی سپلائی آتی ہے ۔ پاکستان کی ثالثی کی حمایت دراصل جنگ کو روکنے کی کوشش ہے ویسے تو ماہرین پاکستان کے ثالثی کردار کی چین کی جانب سے تائید کو امریکا کے لئے بھی اشارہ قرار دے رہے ہیں، چین براہ راست ٹکراؤ کی بجائے مذاکراتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور پاکستان کے کردار کو پل کے طور پر دیکھتا ہے ،ماہرین کے مطابق پاکستان کا موثر ثالثی کردار اس کی سیاسی تاریخ میں اہمیت کو اور بڑھائے گا اور اسے بڑے معاشی مواقع بھی مل پائیں گے پاکستان چین کی جانب سے آنے والے اس بیان کو مثبت حوصلہ افزا اور موقع فراہم کرنے والا سفارتی سگنل سمجھ رہا ہے ۔ اسلام آباد چین کے اس عمل کو اپنی خارجہ پالیسی کی توثیق سمجھنے کے ساتھ خود کو ایک برج سٹیٹ سمجھ رہا ہے چین جیسے قریبی اتحادی کی تائید پاکستان کی عالمی ساکھ کو تقویت دیتی ہے ۔

ماہرین پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کے بارے میں یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اہم ممالک کے بعد چین کی جانب سے ملنے والی تائید ایک بڑا چیلنج اور ذمہ داری بھی ہے اور پاکستان پردباؤ بڑھے گا کہ وہ اب عملی طور پر نتائج یقینی بنائے اور محض بیانات تک محدود نہ رہے پاکستان کو اپنے اس کردار میں توازن بھی برقرار کھنا پڑے گا ایک طرف جہاں اس کے امریکا کے ساتھ اہم روابط ہیں تو دوسری طرف ایران سے اس کے بردارانہ تعلقات ہیں لہٰذا اگر پاکستان کا کسی ایک طرف جھکاؤ نظر آیا تو اس سے اس کا ثالثی کردار متاثر ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اس کردار کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کیلئے اعزاز بھی ہے موقع بھی اور امتحان بھی ا گر پاکستان اس چیلنج سے مثبت انداز میں نبرد آزما ہوتاہے ،امن کو یقینی بنا لیتا ہے تو اس سے اس کی عالمی حیثیت بڑھے گی ورنہ اس کی کوشش صرف ایک رسمی حمایت بن کر رہ جائے گی ۔ویسے بھی چین کے پالیسی بیان کے بعد سعودی عرب و دیگر عرب ممالک اور ایران پر اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھے گا کہ وہ مذاکراتی عمل سے انکار نہ کریں کیونکہ اب چین جیسی اہم عالمی و علاقائی قوت نے بھی پاکستان کے کردار کی تائید کی ہے ،یہ اقدام اور یہ اعلان اس رحجان کو مضبوط کرتا ہے کہ عالمی تنازعات کا حل ایک ہی طاقت کی بجائے متعدد ممالک اور پلیٹ فارمز کے ذریعہ نکالا جائے جہاں تک وزیر خارجہ اسحق ڈار کے دورہ چین کا سوال ہے تو یہ ایک کثیر الجہتی سفارتی مشن تھا جسے اس دورہ سے تائید حاصل ہوئی اور چین نے اپنے بیان کے ذریعے واضح کر دیا کہ پاکستان اور چین ون پیج پر ہیں اور خطہ میں استحکام اور جنگ سے گریز کے لئے مذاکراتی حل کو بہترین آپشن سمجھتے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں