ڈیجیٹل تبدیلی :جاز ورلڈ ، ویون قیادت کی وزرا سے ملاقاتیں
احسن اقبال ، خواجہ آصف سے ڈیجیٹل ٹیکنالو جی ،ٹیلی کام نیٹ ورکس پر تبادلہ خیال
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر )جاز ورلڈ کے سی ای او عامر ابراہیم ، ویون گروپ کے سی ای او کان ترزی اوغلو نے اعلیٰ قیادت کے ہمراہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور (پی ٹی اے )، بی آئی ایس پی اور پی وی اے آر اے کی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل، سرکاری و نجی اشتراک کے فروغ ، سرمایہ کاری، شمولیت اور طویل مدتی معاشی استحکام کو تیز کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال سے ملاقات میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے فروغ پر بات ہوئی۔ وفد نے "اڑان پاکستان" فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگی اور نالج بیسڈ اکانومی کی جانب پیش رفت کو اجاگر کیا ۔و فاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات میں ٹیلی کام نیٹ ورکس کی قومی سطح پر اہم بنیادی ڈھانچے کے طور پر حیثیت پر روشنی ڈالی گئی ، گفتگو میں محفوظ، مضبوط اور ہر وقت دستیاب کنیکٹویٹی کی ضرورت پر زور دیا گیا، جسے حالیہ سپیکٹرم کے حصول اور ملک بھر میں کوریج اور معیار بہتر بنانے کیلئے جاری سرمایہ کاری سے تقویت دی جا رہی ہے ۔ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن سے ملاقات میں حالیہ سپیکٹرم نیلامی کے شفاف اور اصلاحات پر مبنی عمل کو سراہا گیا۔ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن روبینہ خالد سے ملاقات میں جاز کیش کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے پر غور کیا گیا، تاکہ شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے ۔ وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب سے ملاقات میں ڈیجیٹل اثاثوں کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور بلاک چین و کرپٹو کرنسی کے ذمہ دارانہ فریم ورک پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ کان ترزی اوغلو نے کہا، "پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور پلیٹ فارمز ترقی کو تیز، مسابقت کو بہتر اور معاشی مضبوطی کو بڑھا سکتے ہیں ،عامر ابراہیم نے مزید کہا، "جیسے جاز ورلڈ ایک ڈیجیٹل طور پر مربوط سروس کمپنی میں اپنی منتقلی کو تیز کر رہا ہے ، ہماری توجہ معیاری کنیکٹویٹی کو وسعت دینے اور ایسے پلیٹ فارمز کو فروغ دینے پر مرکوز ہے جو مالی شمولیت، تعلیم اور کاروباری مواقع کی حمایت کریں ۔