سزا یافتہ کیلئے رہائی فورس تشکیل پر سنجید ہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں:چیف جسٹس آئینی عدالت
کیا کابینہ سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی؟عدالت، کابینہ نے کوئی اجازت نہیں دی:وکیل درخواست گزار وفاقی حکومت یقینی بنائے کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو:ریمارکس، عمران رہائی فورس پر وزیر اعلیٰ آفریدی سے جواب طلب
اسلام آباد (دنیا نیوز)وفاقی آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل پر 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی حدود سے متصادم ہو سکتی ہے ، انہوں نے مختلف دستاویزات اور شواہد عدالت میں پیش کئے جبکہ تھریٹ سے متعلق اخباری آرٹیکلز کا حوالہ بھی دیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے ، وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ کابینہ کی جانب سے ایسی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو، چیف جسٹس نے کہا کہ سزا یافتہ افراد کیلئے ایسی فورس کی تشکیل پر سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کا مقابلہ ‘ڈاکوؤں’ سے ہے ، تاہم عدالت نے اس حوالے سے مزید وضاحت طلب کر لی۔ عدالت نے مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔