عالمی بینک کا تعلیمی، ماحولیاتی،معاشی منصوبوں کی سخت نگرانی کافیصلہ

عالمی بینک کا تعلیمی، ماحولیاتی،معاشی منصوبوں کی سخت نگرانی کافیصلہ

جائزہ مشن 13 سے 20 اپریل تک لاہور ،اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کریگا فنڈز کے استعمال، رفتار، نتائج کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے ہونے لگے

لاہور (محمد حسن رضا سے )عالمی مالیاتی ادارہ ورلڈ بینک نے پنجاب اور وفاق میں جاری تعلیمی، ماحولیاتی اور معاشی منصوبوں کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہنگامی جائزہ مشن 13 سے 20 اپریل تک لاہور اور اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس طلب کر لیا۔ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب متعدد منصوبوں میں فنڈز کے استعمال، رفتار اور نتائج کے حوالے سے سنگین سوالات سامنے آنے لگے ۔ ورلڈ بینک کے تحت جاری پروگرامز میں اربوں ڈالرز کی  فنڈنگ شامل ہے ، جن میں تعلیمی شعبے کے بڑے منصوبے نمایاں ہیں۔پنجاب میں سکول ایجوکیشن پروگرامز کیلئے 30 سے 40 کروڑ ڈالر مختص کئے گئے ہیں جن کا مقصد سہولیات کی بہتری، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کے داخلوں میں اضافہ ہے ، جبکہ نان فارمل ایجوکیشن، لٹریسی اور سپیشل ایجوکیشن منصوبوں کیلئے بھی خطیر فنڈز فراہم کئے گئے ۔ تاہم ان منصوبوں کی شفافیت اور خریداری کے نظام پر سوالات اٹھنے کے بعد پروکیورمنٹ کے عمل کو خصوصی آڈٹ میں شامل کیا گیا ہے ۔

ماحولیاتی منصوبوں کیلئے بھی 20 سے 30 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ جاری ہے جس میں سموگ کنٹرول، ویسٹ مینجمنٹ اور گرین انفراسٹرکچر شامل ہیں، مگر زمینی نتائج توقعات کے مطابق نہ ملنے پر ان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔اسی طرح معاشی و گورننس پروگرامز کیلئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد فنڈنگ دی گئی، جس میں پبلک فنانس مینجمنٹ، ٹیکس اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری شامل ہیں، تاہم ان پروگرامز میں اہداف کے حصول اور اصلاحات کی رفتار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔تعلیمی شعبے میں پی ایم آئی یو، سکول ایجوکیشن، سپیشل ایجوکیشن اور لٹریسی ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی خصوصی فوکس میں ہے جبکہ نصاب، اساتذہ کی تربیت اور تدریسی مواد کے معیار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ سکول مینجمنٹ کونسلز کے تحت خریداری کے نظام کو بھی ازسرنو ترتیب دینے کیلئے سفارشات تیار کی جائیں گی۔ورلڈ بینک مشن کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ اربوں روپے کی فنڈنگ کے باوجود نتائج مطلوبہ سطح تک کیوں نہیں پہنچ سکے ۔ مشن کے اختتام پر سفارشات پیش کی جائیں گی جن کی بنیاد پر موجودہ منصوبوں میں تبدیلیاں اور آئندہ فنڈنگ کا فیصلہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ پنجاب کے گریڈز-ایس ٹی پی تعلیمی منصوبے پر بھی ورلڈ بینک خود نگرانی کر رہا ہے تاکہ پیش رفت، رکاوٹوں اور آئندہ اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں