چین میں مذاکرات، کیا افغانستان سے دہشتگردی بند ہوگی؟

چین میں مذاکرات، کیا افغانستان سے دہشتگردی بند ہوگی؟

طالبان انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ صرف نیت نہیں ، صلاحیت و ترجیحات بھی مسئلہ

(تجزیہ: سلمان غنی)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ اور ٹکراؤ کی کیفیت کے خاتمے کیلئے چین ایک مرتبہ پھر سے متحرک نظر آ رہا ہے اور اس ضمن میں شمالی چین کے شہر اورمچی میں سہ فریقی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہے اور بنیادی نکتہ یہی ہے کہ خطہ میں ترقی و استحکام کے لئے دہشت گردی کے رحجانات کا قلع قمع کرنا ہوگا ۔ خصوصاً افغان سرزمین  کا دہشت گردی کے لئے استعمال روکنے کے لئے افغان انتظامیہ کو سنجیدگی ظاہر کرنا ہوگی ۔یہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا عمل نہیں بلکہ یہ چین افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری سہ فریقی حکمت عملی کا فالو اپ ہے جس میں چین کے اپنے بھی تحفظات ہیں اور پاکستان اپنی اس اصولی پالیسی پر گامزن ہے کہ جب تک افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لئے استعمال بند نہیں ہوتا خطہ میں استحکام ممکن نہیں لیکن اس مرحلہ پر بنیادی سوال یہی ہے کہ چین میں جاری مذاکراتی عمل کس حد تک بامقصد ہوگا اور کیا وجہ ہے کہ سہ فریقی مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ بند نہیں ہو پا رہا ۔

جہاں تک مذاکراتی سلسلے کا تعلق ہے تو چین پہلے سے ہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کار اور خصوصاً دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اقدامات بارے سرگرم عمل ہے اس سے قبل بھی چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس طرح کی سفارتی مشق کی تھی اور ان کے درمیان دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے مربوط حکمت عملی ترتیب دی تھی اور چین کی جانب سے یہ خاموش اور موثر سفارتکاری کا مقصد دراصل خطہ میں امن و استحکام کا قیام تھا ،کیونکہ اس کے بغیر اس کے اپنے معاشی ایجنڈے کی تکمیل ممکن نہیں لیکن چین میں ہونے والے سہ فریقی مذاکراتی عمل پر اس لئے پیش رفت نہ ہو سکی کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا اور دہشت گردی کے عمل پر پاکستان کے تحفظات دور کرنے کی بجائے افغان انتظامیہ نے الٹا پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا اور پھر نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو خود نشانہ بنانا پڑا جس پر افغان انتظامیہ کی جانب سے کئے جانے والے واویلا پر اس لئے کوئی حرکت میں نہ آیا کہ متعلقہ ممالک پہلے سے ہی افغان سرزمین پر دہشت گردی کے عمل اور اس پر افغان انتظامیہ کی مجرمانہ پہلوتہی پر معترض تھے ۔چین کو خود بھی افغان سرزمین سے دہشت گردی اور خصوصاً سنکیانگ میں علیحدگی پسند عناصر کی سرگرمیوں پر تشویش ہے اور ان کی ممکنہ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں لہٰذا چین نہیں چاہتا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی اور کے خلاف استعمال ہونے دے ۔

ویسے بھی چین سی پیک کو افغانستان تک بڑھانے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کی تکمیل چاہتا ہے جس کیلئے افغان سرزمین میں امن کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے ۔ بظاہر تو پاکستان کی جانب سے مذکورہ مذاکراتی عمل سے بڑی توقعات قائم نہیں کی گئیں لیکن آج خارجہ آفس کی ہفتہ وار بریفنگ میں اورمچی مذاکرات بارے پاکستان کا موقف سامنے آنے کا امکان ہے جس میں پاکستان مذاکراتی عمل کی بحالی اور اس میں چین کے کردار کے حوالہ سے وضاحت دے گا ۔لیکن بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ مذکورہ مذاکراتی عمل کی بحالی کے بعد کیا افغان سرزمین سے دہشت گردی کا استعمال بند ہو پائے گا ،طالبان انتظامیہ کی ناکامی صرف نیت کا مسئلہ نہیں بلکہ صلاحیت اور ترجیحات کا بھی مسئلہ ہے اس لئے کہ وہ برسراقتدار تو آ گئے لیکن ان کی ہر علاقہ میں یکساں اور موثر عملداری نہیں ایک یکساں منظم حکومت نہ ہونے کے باعث مختلف کمانڈرز اپنی پالیسی پر گامزن ہیں اور طالبان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی سے اس لئے ہچکچاتے ہیں کہ وہ اپنی مخالفت کو اور بڑھانا نہیں چاہتے اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کے زیادہ تحفظات ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں