کراچی : تیز ہوائوں، موسلادھار بارش سے نظام زندگی درہم برہم، 6 افراد جاں بحق
شارع فیصل سمیت بڑی شاہراہیں زیرآب،شدیدٹریفک جام،پی آئی بی، سائٹ، ایم اے جناح روڈ،سرجانی میں کرنٹ لگنے ،پاک کالونی میں دیوار گرنے سے اموات،اورنگی میں3بچے زخمی موٹر سائیکل سواروں نے فلائی اوورز کے نیچے پناہ لی، لوگ گاڑیوں کو دھکا لگاتے نظر آئے ،600سے زائد فیڈرٹرپ،بجلی غائب، ناظم آباد میں سب سے زیادہ 69ملی میٹر بارش ریکارڈ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کے باعث حادثات میں کمسن بچی سمیت 6 افراد جاں بحق، 3 زخمی ہوگئے ۔ نصف گھنٹے سے بھی کم جاری رہنے والی موسلادھار بارش نے شہرمیں نظام زندگی درہم برہم کرکے رکھ دیا۔اورنگی ٹاؤن ، نارتھ ناظم آباد ، اولڈ سٹی ایریا ، صدر ، ملیر ،لانڈھی،کورنگی، گلشن معمار،گلشن حدید اور نارتھ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی، بادل کھل کر برسے ،کہیں کہیں اولے بھی گرے ۔ موٹر سائیکل سواروں نے فلائی اوورز کے نیچے پناہ لی۔شارع فیصل اور کورنگی صنعتی ایریا شاہراہ سمیت کئی سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔تیز بارش کے بعد سڑکیں ڈوبنے پر ٹریفک پولیس نے مختلف شاہراہوں پر متبادل روٹس جاری کردیے ۔ اس دوران لوگ گاڑیوں کو دھکا لگاتے نظر آئے اور منزلوں کو جانے والے راستوں میں پھنس گئے ۔ شارع فیصل پرنرسری سے بلوچ کالونی پل جانے والا ٹریک ٹریفک کے لیے بند ہوگیا،ٹریفک کو نرسری سے شارع قائدین کی جانب متبادل راستہ دیا گیا۔
نارتھ ناظم آباد میں شیر شاہ سوری روڈ پر فلائی اوور کے اطراف پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چمڑاچورنگی سے آگے تک سڑک دریاکا منظرپیش کررہی تھی۔ بارش کے بعد ایک بار پھر بجلی کا نظام شدید متاثر ہو گیا اور کے الیکٹرک کے 623 سے زائد فیڈرز بند ہونے سے شہر کے مختلف علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ جمعرات کو صبح اور دوپہر کے اوقات میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش کے دوران پی آئی بی کالونی پوسٹ آفس کوئٹہ ہوٹل کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا،جس کی شناخت 30 سالہ عبدالولی ولدعبدالباری کے نام سے کی گئی۔ ایس ایچ او رانا اجمل کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا۔سائٹ سپر ہائی وے تھانے کے علاقے سپر ہائی وے احسن آباد سیکٹر 3 میں کرنٹ لگنے سے 35 سالہ شہاب الدین ولد نذرالدین جاں بحق ہوگیا، جس کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
ایس ایچ او محمد نواز کے مطابق متوفی بجلی کا کام جانتا تھا اور ایک دکان میں بجلی کا کام کر رہا تھا کہ کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔سرجانی ٹاؤن تھانے کے علاقے حسن بروہی گوٹھ کے گھر میں کرنٹ لگنے سے 23 سالہ سرتاج جاں بحق ہوگیا، جس کی لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی ۔ہیڈ محرر سرجانی ٹاؤن علی خان کے مطابق متوفی گھر میں وائرنگ کا کام کر رہا تھا، اس دوران اسے کرنٹ لگا اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا۔سرجانی ٹاؤن سیکٹر سیون اے کے گھر میں ہی کرنٹ لگنے سے 12 سالہ دعا بتول دختر سرفراز جاں بحق ہوگئی۔ پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔پاک کالونی تھانے کے علاقے پرانا گولیمار بسم اللہ ہوٹل انور بیکری کے قریب 2 منزلہ گھر کی دیوار گلی سے گزرنے والے رکشے پر گر گئی، جس کے نتیجے میں رکشہ ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہوگیا۔حادثے کے بعد ریسکیو 1122 کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اور ملبہ ہتانے کا کام شروع کر دیا۔ جاں بحق رکشہ ڈرائیور کی شناخت 50 سالہ ارشاد علی ولد رفیق علی کے نام سے ہوئی۔
ایم اے جناح روڈ سیون ڈے کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا جس کی شناخت نہیں ہو سکی۔اورنگی ٹاؤن اجتماع گاہ مدینہ ہوٹل کے قریب گھر کی دیوار گرنے سے 3 بچے زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمی بچوں کی شناخت 7 سالہ رحمن ولد شاہ نواز، 13 سالہ قاسم ولد عبدالحمید اور 14 امیر معاویہ ولد شفیق الرحمن کے نام سے کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش ناظم آباد میں 69 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کیماڑی میں 56 ملی میٹر، سعدی ٹاؤن میں 48، یونیورسٹی روڈ پر 44 جبکہ پی اے ایف بیس فیصل پر 30ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ جناح ٹرمینل اور سرجانی ٹاؤن میں 35 ملی میٹر اور گلشن معمار میں 36 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ علاوہ ازیں بارش کے باعث متعدد مقامات پر بجلی کے تار ٹوٹنے ، پی ایم ٹیز خراب ہونے اور تکنیکی خرابیوں کے باعث سپلائی متاثر ہوئی، جبکہ کئی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے تحت بھی بجلی بند کی گئی۔
متاثرہ علاقوں میں نیو کراچی، لیاقت آباد ،سرجانی ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد، گولیمار، لیاری ، گارڈن، کورنگی،اسکیم 33، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، گلستان جوہر،ملیر، شیرشاہ اور بلدیہ سمیت شہر کے مختلف علاقے شامل ہیں جہاں صارفین کو طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے کئی علاقے تاحال بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشان ہیں۔ بجلی کی بندش کے باعث گھریلو معمولات کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کے ای ذرائع کے مطابق بارش کے دوران نشیبی علاقوں میں بجلی کے نظام کو محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی طور پر فیڈرز بند کئے گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے ، تاہم شہریوں کی بڑی تعداد نے طویل بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔ دوسری جانب کے الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیڈرز کی بحالی کیلئے فیلڈ ٹیمیں متحرک ہیں اور مرحلہ وار بجلی بحال کی جا رہی ہے جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بارش کے دوران ٹوٹے ہوئے تاروں یا خراب تنصیبات سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اطلاع دیں۔