علاقائی کشیدگی : بیرونی سرمایہ کاری میں 22 فیصد کمی، حکومت کا قومی اسمبلی میں اعتراف
مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 3 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2.4 ارب ڈالر رہ گئی نجی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے صارفین کی مبینہ نگرانی پر تشویش ،غیر معیاری انٹرنیٹ سروس پر ارکان کی تنقید قومی فنڈ برائے ثقافتی ورثہ ترمیمی بل کی شق وار منظوری کے دوران کورم کی نشاندہی ،اسمبلی اجلاس آج تک ملتوی
اسلام آباد (نامہ نگار،سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر کمی کا اعتراف کر لیا ، وزیراعظم آفس کے انچارج وزیر کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ، جولائی تا فروری کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ،گزشتہ مالی سال کے اسی عر صہ میں پاکستان کو 3 ارب 88 ملین امریکی ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری حاصل ہوئی تھی، تاہم رواں مالی سال کے جولائی تا فروری میں یہ سرمایہ کاری کم ہو کر 2 ارب 409 ملین امریکی ڈالر رہ گئی۔حکومت نے سرمایہ کاری میں کمی کی بنیادی وجوہات علاقائی کشیدگی، پاک بھارت جنگی صورتحال اور حالیہ امریکہ ایران تناز ع کو قرار دیا ، تحریری جواب میں کہا گیا کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں نے نئی سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر د ئیے ، جس کے نتیجے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہوئی۔
اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں ٹیلی کام سروسز، فائیو جی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے امور زیر بحث آئے ، شرمیلا فاروقی نے نجی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے صارفین کی مبینہ نگرانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان کمپنیوں کی نگرانی کون کرتا ہے ؟۔ پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری نے جواب دیا کہ اس حوالے سے پی ٹی اے مانیٹرنگ کر رہی ہے ، سائبر کرائم کے حوالے سے ویب مانیٹرنگ سسٹم مانیٹر کرتا ہے ، شکایات پر بھی کارروائی کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ توہین کی 600 ویب سا ئٹس ہم نے بلاک کی ہیں۔نور عالم خان نے انٹرنیٹ سروس کے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا بڑے شہروں کے درمیان بھی مناسب سروس دستیاب نہیں جبکہ پارلیمنٹ لاجز میں انٹرنیٹ کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں۔ اس پر سبین غوری نے بتایا کہ فائیو جی آکشن کا عمل مکمل ہو چکا ، جیز ، یوفون نے بعض علاقوں میں اس پر عملدرآمد شروع کر دیاہے ، اسلام آباد کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کی جانب سے بے تحاشا ٹیوشن فیسوں اور سالانہ واجبات وصول کئے جانے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری تعلیم وجیہہ قمر نے بتایا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کی سخت مانیٹرنگ کی جاتی ہے ، انہیں سالانہ 5 سے 8 فیصد تک اضافہ کی اجازت ہے ،اس سے زیادہ فیس اضافہ کے لئے مختلف انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں۔
پانچ پرائیویٹ سکولز کی طرف سے فیسوں میں اضافہ کی شکایت آئی، ان کو فوری نمٹایا گیا، الیاس چودھری کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہابے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی دنیا معترف ہے ، رجسٹرڈ تمام لوگوں کے اعداد وشمار خفیہ رکھے جاتے ہیں،بی آئی ایس پی کے تحت تین کروڑ 80 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہیں ،ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 716 ارب روپے سالانہ اس پروگرام کو دیے جاتے ہیں، اس میں مزید اضا فے کے لئے کوشاں ہیں ۔پاکستان بیت المال سے مستفید ہونے والے خاندانوں کے اعدادوشمار بھی قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جس کے مطابق پنجاب کے 7 اضلاع میں 258 خاندان پاکستان بیت المال ،سندھ کے 2 اضلاع میں 86، خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع میں 285 خاندان رجسٹرڈ ہیں ،رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 7 اضلاع میں 258 خاندان پاکستان بیت المال کے تحت رجسٹرڈ ہیں، سندھ کے 2 اضلاع میں 86، خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع میں 285 خاندان رجسٹرڈ ہیں۔
اسلام آباد اور آ ز اد جموں و کشمیر کے دو اضلاع میں 110 خاندان پاکستان بیت المال سے مستفید ہو رہے ہیں ،گلگت بلتستان کے ایک ضلع میں 93 خاندان پاکستان بیت المال کے تحت رجسٹرڈ ہیں، بلوچستان کے 2 اضلاع میں پاکستان بیت المال کے تحت 107 اضلاع رجسٹرڈ ہیں، پاکستان بیت المال نے قیام سے اب تک 145.67 ملین روپے مستحق خاندانوں میں تقسیم کئے ۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے تحریک پیش کی کہ قومی فنڈ برائے ثقافتی ورثہ ایکٹ 1994 میں مزید ترمیم کرنے کا بل قومی فنڈ برائے ثقافتی ورثہ (ترمیمی) بل 2026 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کر وہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے ۔ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد انہوں نے یہ بل منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا۔بل کی شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن ر کن نے کورم کی نشاندہی کی جس پر ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ نے گنتی کرانے کی ہدایت کی ،کورم پورانہ ہونے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی آج جمعہ دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔