مشرق وسطیٰ کشیدگی، پاکستان امریکی قیادت کیساتھ قریبی رابطے میں ہے : دفتر خارجہ
وزیراعظم نے امن کیلئے رابطے تیزکردیئے ،پاک چین امن منصوبے کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ، بھارتی فیک نیوز بے نقاب طالبان کیساتھ بات چیت جاری ، افغانستان کے معاملے پر چین کیساتھ رابطے میں ہیں ، ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ
اسلام آباد (وقائع نگار)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی خطرناک ہے اس کا فوری مستقل حل تلاش کرنا ضروری ، سفارت کاری اور مذاکرات ہی مسائل حل کرنے کا واحد مؤثر راستہ ہے ، پاک چین 5 نکاتی امن منصوبے کے تحت فوری امن مذاکرات کے آغاز، خودمختاری کے احترام اور طاقت کے استعمال سے گریز پر اتفاق کیا گیا، اس کے علاوہ غیر فوجی تنصیبات کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم اور نائب وزیر اعظم کے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے ہوئے ، پاکستان کی خطے میں قیام امن کے لئے کوششیں جاری ہیں، پاکستان خطے میں امن کے لئے متحرک ہے۔
دفتر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے، پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لئے موجود ہے ،پاکستان کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا، افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان کا فیک نیوز کا دھندہ بے نقاب ہو چکا ہے ، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے منسوب بیان کو بھی غلط پیش کیا گیا، ترجمان کے مطابق ان مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے ۔ترجمان نے کہا کہ تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پاکستان امریکی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے اور مسلسل سفارتی مشاورت میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، تر کیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا جس دوران خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ چین اور پاکستان کے مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبے کو عالمی اور خطے میں پذیرائی حاصل کی، منصوبہ ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ فریقین تک پہنچایا گیا، امریکی قیادت نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سہولت کاری کا کردار سراہا جب کہ آئندہ مرحلے میں متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات پر توجہ دی جائے گی۔