برآمدات کم درآمدات زائد : تجارتی خسارہ 23 فیصد اضافے کے ساتھ 27 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
مالی سال کے پہلے 9ماہ برآمدات میں 8فیصد کمی، درآمدات کا مجموعی حجم 50.54ارب ڈالر تک رہا، ادارہ شماریات واجب الادا مجموعی قر ض 81ہزار ارب روپے ، ہر پاکستانی 3لاکھ 25ہزار سے زائد کا مقروض :قائمہ کمیٹی میں انکشاف
اسلام آباد(دنیانیوز)برآمدات کم درآمدات زیادہ، سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ بڑھ گیا، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق تجارتی خسار ہ 23 فیصد اضا فے کیساتھ حجم 27 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ،گزشتہ سال جولائی تا مارچ تجارتی خسارے کا حجم 22.67ارب ڈالر تھا، ادارہ شماریات نے ماہانہ بنیادوں پر تجارتی اعدادوشمار بارے رپورٹ جاری کر دی ،جولائی تا مارچ 9 ماہ کے دوران برآمدات میں 8 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں برآمدات 22.73 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئی ہیں، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں برآمدات کا حجم 24.72 ارب ڈالر تھا، رواں مالی سال جولائی سے مارچ 2026 تک درآمدات کا حجم 6.64 فیصد تک بڑھ گیا، جولائی سے مارچ درآمدات کا مجموعی حجم 50.54 ارب ڈالر تک رہا۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال اسی عرصہ کے دوران درآمدات کا حجم 47.39 ارب ڈالر تھا، ماہانہ بنیادوں پر مارچ 2026 برآمدات میں 14.4 فیصد کی کمی ریکارڈ ہوئی، ماہانہ بنیادوں پر مارچ کے دوران برآمدات 2.26 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئی، گزشتہ سال مارچ 2025 کے دوران برآمدات کا حجم 2.64 ارب تھا، گزشتہ ماہ مارچ 2026 میں درآمدات 4.99 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، سالانہ بنیادوں پر مارچ کے 5.28 ارب ڈالر کی نسبت 5.37 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی سالانہ بنیادوں پر مارچ 2026 میں تجارتی خسارہ 3.71 فیصد تک بڑھا، مارچ 2026 کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 2.73 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا، گزشتہ سال مارچ 2025 میں ملکی تجارتی خسارہ 2.63 ارب ڈالر تھا، ماہانہ بنیادوں پر فروری کی نسبت مارچ میں تجارتی خسارہ 9.36 فیصد کم ہوا، سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہو گیا، اجلاس میں آئی ایم ایف سمیت بیرونی اور مقامی قرضوں کا ایجنڈا زیر بحث آیا بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کے ذمہ واجب الادا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے ، کل قرض میں 26 ہزار ارب بیرونی اور 55 ہزار ارب روپے مقامی قرض ہے ، 25 کروڑ آبادی کے حساب سے فی کس قرض 3 لاکھ 25 ہزار بنتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ امپورٹ کم ایکسپورٹ زیادہ ہو تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں، پاکستان میں ایکسپورٹس کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کی جاتی، عراق میں سب سے زیادہ جنگیں ہونے کے با جود بہت کمپنیاں ہیں، چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا خدا کے واسطے رحم کریں ہمارا ملک تباہ ہوتا جا رہا ہے ، قرضوں پر قرضے لئے جا رہے ہیں اس پر کوئی پالیسی بنائیں، ایسی پالیسی بنائیں کہ ایکسپورٹ بڑھیں اور قرضہ کم ہو، وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ حکومتیں جو بھی قرضہ لیتی ہیں وہ واپس کیا جاتا ہے ، قرضی واپسی کی تاریخ پر سود سمیت قرض واپس کیا جاتا ہے ، بیرونی اور مقامی دونوں قرض واپس کیے جا رہے ہیں، نئے قرضے لیکر پرانے قرضے واپس کیے جاتے ہیں، کمیٹی نے استفسار کیا کہ جن ایم این ایز کو 50,50 کروڑ د ئیے گئے تھے ان سے پوچھیں کہاں خرچ کیے ، ایم این ایز سے پوچھیں کہ صرف 7 دن میں 50 کروڑ کیسے خرچ ہوگئے ، ایم این ایز کے فنڈز کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے ۔