متحدہ عرب امارات کو3.5ارب ڈالر قرض واپس کرنے کا فیصلہ:2ارب اسی ماہ،ایک ارب جولائی میں دیا جائیگا

متحدہ عرب امارات کو3.5ارب ڈالر  قرض واپس کرنے کا فیصلہ:2ارب اسی ماہ،ایک  ارب جولائی  میں دیا جائیگا

رقم سیف ڈیپازٹ کے طور پر جمع کروائی گئی ، 6 فیصد کی شرح سے سود ادا کیاجارہاتھا، 45کروڑ ڈالر قرض 30سال قبل لیا گیا،اگلے ہفتے یواے ای کو ادائیگی کر دی جائیگی امارات ڈیپازٹ رقم کو پہلے سالانہ بنیاد پر رول اوور کرتارہا ، 16 اور 22 جنوری کو ایک ماہ، فروری میں دو ماہ کیلئے رول اوور کیا ، مزید2ماہ کی درخواست منظور نہیں کی

 اسلام آباد(مدثرعلی رانا)پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا ساڑھے 3ارب ڈالر قرضہ واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، رواں ماہ 2 ارب ڈالر قرض واپس کردیا جائے گا جبکہ ایک ارب ڈالر جولائی میں واپس کئے جائیں گے ، یواے ای کو واپس کئے جانے والے 3اعشاریہ 5 ارب ڈالر میں 45 کروڑ ڈالر کا قرض شامل ہے جو 97-1996 میں لیا گیا تھا ، پاکستان 30 سال بعد یہ رقم اگلے ہفتے واپس کر رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یو اے ای نے رقم سیف ڈیپازٹ کے طور پر جمع کروائی تھی اور پاکستان اس پر 6 فیصد کی شرح سے سود ادا کررہا تھا، یواے ای اس رقم کو پہلے سالانہ بنیاد پر رول اوور کرتارہا ،بعدازاں اسے 16 اور 22 جنوری کو ایک مہینے اور پھر فروری میں دو ماہ کیلئے رول اوور کیا تھا۔ یہاں یہ امر قابل  ذکر ہے کہ آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض کے حصول کیلئے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے پاکستان سے وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال ستمبر میں پروگرام کے مکمل ہونے تک سٹیٹ بینک آف پاکستان میں مشترکہ طور پر 12اعشاریہ 5 ارب ڈالر ڈیپازٹس برقرار رکھے جائیں گے ، آئی ایم ایف وفد نے مرکزی بینک حکام سے مذاکرات کے دوران رول اوور کا مطالبہ کیا تھا ،جس پر سٹیٹ بینک حکام نے یقین دہانی کرا ئی تھی کہ مذاکرات کے دوران ہی مثبت پیشرفت ہو جائے گی۔ دنیا نیوز کے نمائندے کو گزشتہ ماہ اعلٰی حکام نے بتایا تھا کہ کریٹیکل سیچوایشن کا سامنا ہے کیونکہ یو اے ای کی جانب سے تحریری طور پر یقین دہانی تاحال نہیں ہو سکی،دو ماہ کے عارضی رول اوور پر حکومت دوبارہ بات چیت کر رہی تھی لیکن یو اے ای نے درخواست منظور نہیں کی اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر اس نے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں